رقابت کے درمیان مفاہمت کی تلاش تحریر: محمد محسن اقبال

تحریر: محمد محسن اقبال
امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ سرکاری دورۂ چین مکمل کرکے وائٹ ہاؤس واپس لوٹ آئے ہیں۔ یہ دورہ نہ صرف عالمی دارالحکومتوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا بلکہ اس نے چین اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات کے اُس دور کی یادیں بھی تازہ کر دیں جب دونوں طاقتیں سرد مہری کے باوجود باہمی روابط کو عالمی استحکام کے لیے ناگزیر سمجھتی تھیں۔ صدر ٹرمپ کے ہمراہ ایک طاقتور وفد موجود تھا جس میں اعلیٰ کابینہ اراکین کے علاوہ زراعت، ہوابازی، ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے امریکہ کے ممتاز کاروباری رہنما بھی شامل تھے۔
بیجنگ کا یہ سفر ایسے وقت میں ہوا جب دنیا بے یقینی کے گرداب میں گھری ہوئی ہے۔ خلیج کے ہنگامہ خیز پانی، عالمی تجارت کی کشمکش، اور دو عظیم طاقتوں کے درمیان نازک تزویراتی توازن نے اس ملاقات کو غیر معمولی اہمیت عطا کر دی۔ چین کی قیادت کے مرکز ژونگ نان ہائی میں ہونے والی گفتگو محض دو ممالک کے باہمی تعلقات تک محدود نہ رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی نظام کے مستقبل پر بھی مرتب ہوتے دکھائی دیے۔
صدر ٹرمپ اور چینی صدرشی جن پنگ کے درمیان ہونے والی سنجیدہ اور محتاط بات چیت میں کئی اہم امور زیرِ بحث آئے۔ خلیج کی کشیدہ صورتِ حال، جہاں ایران سے متعلق تنازعات کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی آزادانہ ترسیل خطرات سے دوچار ہو چکی ہے، خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک نے اس امر پر اتفاق کیا کہ عالمی تجارت کے لیے سمندری راستوں کا کھلا رہنا ناگزیر ہے، کیونکہ اگر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور رسد کی قلت عالمی معیشت کو مزید بحرانوں میں دھکیل سکتی ہے۔
یہ تاثر بھی ابھرا کہ دونوں قیادتیں اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی فریق کو ایسے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو خطے کی کشیدگی میں مزید اضافہ کریں۔ اگرچہ اس اتفاقِ رائے سے وقتی طور پر عالمی منڈیوں کو اطمینان ملا ہے، مگر پسِ منظر میں موجود تنازعات بدستور اپنی جگہ قائم ہیں۔
تجارت اور اقتصادی تعاون بھی مذاکرات کا ایک اہم ستون رہے۔ صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کے لیے “شاندار تجارتی معاہدوں” کی امید ظاہر کی۔ اشارے ملے ہیں کہ چین امریکی زرعی مصنوعات، خصوصاً سویابین اور گائے کے گوشت کی بڑی مقدار خریدنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، جبکہ تقریباً دو سو بوئنگ طیاروں کی خریداری کے امکانات بھی زیرِ غور آئے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے نئے مشترکہ بورڈز قائم کرنے کی تجاویز سامنے آئیں تاکہ مکالمے کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جا سکے۔
تاہم مبصرین نے اس امر کی نشاندہی کی کہ نہ تو محصولات کے تنازعات پر کوئی انقلابی پیش رفت ہوئی اور نہ ہی ٹیکنالوجی یا نایاب معدنیات کے معاملات میں کوئی بڑا معاہدہ سامنے آیا۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ممالک فی الحال بڑے انقلابی اقدامات کے بجائے تعلقات میں تدریجی استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکی ارب پتی صنعت کاروں کی موجودگی اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ سفارت کاری کو معاشی حقیقت پسندی کے ساتھ جوڑنے کی خواہاں ہے، جہاں ریاستی مفادات اور تجارتی تقاضے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی دیں۔
تائیوان کا دیرینہ اور حساس مسئلہ بھی مذاکرات میں شامل رہا۔ چینی قیادت نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ تائیوان ان کے بنیادی قومی مفادات میں شامل ہے، اور بالخصوص امریکی اسلحہ فروخت کے معاملات کسی خطرناک تصادم کو جنم دے سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی موقف میں آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ زیرِ غور دفاعی پیکجز کے بارے میں فیصلے آنے والے ہفتوں میں احتیاط سے کیے جائیں گے۔ اگرچہ اس معاملے میں کوئی غیر معمولی پیش رفت نہ ہو سکی، تاہم کھلے انداز میں تبادلۂ خیال خود ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ یہی مکالمہ اختلافات کو تصادم میں بدلنے سے روک سکتا ہے۔
ان مخصوص معاملات سے ہٹ کر یہ دورہ دونوں عظیم طاقتوں کے تعلقات کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ رسمی ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ کئی علامتی اقدامات نے بھی ماحول کو خوشگوار بنایا۔ ایک پرتکلف ضیافت میں باہمی احترام کے جذبات کا اظہار کیا گیا، صدر ٹرمپ نے تاریخی “باغیچے” کا دورہ کیا جس نے چینی تہذیب و ثقافت کے اعتراف کا تاثر دیا، جبکہ صدر شی جن پنگ کو ستمبر میں وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت بھی دی گئی۔
ایسی شخصی سفارت کاری کو بعض حلقے محض رسمی انداز سمجھتے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ عالمی سیاست میں ذاتی تعلقات کئی مرتبہ پیچیدہ مذاکرات کو آسان بنانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ معتبر اخبارات اور بین الاقوامی جرائد کے تجزیے اس سربراہی ملاقات کو محتاط امید کی علامت قرار دے رہے ہیں—یعنی ایسی پیش رفت جو تعلقات میں اچانک انقلاب کے بجائے پیش بینی اور استحکام کو فروغ دے سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کی واپسی کے بعد عالمی مبصرین ان اشاروں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں جو مستقبل کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔ اقتصادی اعتبار سے اگر طے شدہ تجارتی اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو امریکی کسانوں، صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ سکتا ہے، بشرطیکہ سیاسی عزم برقرار رہے۔ خلیج میں اگر مشترکہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو توانائی کی ترسیل زیادہ مستحکم ہو سکتی ہے، جس سے دنیا بھر کے صارفین اور صنعتوں کو حالیہ غیر یقینی صورتِ حال سے نجات ملنے کی امید پیدا ہوگی۔
تاہم ٹیکنالوجی اور بحرالکاہل کے خطے میں اسٹریٹجک مسابقت غالباً اپنی موجودہ شکل میں جاری رہے گی، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے سے محتاط فاصلہ رکھتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ کی کوشش کرتے رہیں گے، لیکن براہِ راست تصادم سے بھی گریز کریں گے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عظیم طاقتوں کے تعلقات ایک ہی ملاقات یا ایک ہی معاہدے سے تبدیل نہیں ہو جاتے۔ یہ دورہ اگرچہ علامتی اعتبار سے بھرپور اور عملی نتائج کے لحاظ سے محتاط تھا، لیکن اس نے چین اور امریکہ کے تعلقات کے اُس طویل داستانی سفر میں ایک اہم باب کا اضافہ ضرور کیا ہے، جو مسابقت کے ساتھ ساتھ باہمی انحصار سے بھی عبارت ہے۔
اب جب واشنگٹن اور بیجنگ آنے والے مہینوں میں اپنی نئی حکمتِ عملیوں کی سمت متعین کریں گے تو دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز رہیں گی کہ بیجنگ میں ہونے والے یہ وعدے اور مفاہمتیں کیا واقعی دیرپا استحکام میں ڈھل پاتی ہیں یا نہیں۔ فی الحال تجربہ کار سفارت کاروں اور عالمی تجزیہ نگاروں کی غالب رائے یہی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کے ہنگامہ خیز سمندر میں وقتی سکون ضرور آیا ہے، مگر پائیدار تعاون کی دشوار منزل ابھی باقی ہے۔
عالمی سیاست کے وسیع افق پر اکثر وہی قدم دیرپا ثابت ہوتے ہیں جو شور و غوغا کے بجائے تدبر، تحمل اور مسلسل حکمتِ عملی کے ساتھ اٹھائے جائیں۔
