کھیل کو سانس لینے دیجئے تحریر محمد محسن اقبال
کھیل کو سانس لینے دیجئے تحریر: محمد محسن اقبال

کبھی “اسپورٹس مین اسپرٹ” (کھیل کی روح) کا لفظ بڑے احترام سے ادا کیا جاتا تھا۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ روایت تھی، خصوصاً جنوبی ایشیا کے میدانوں میں۔ ماضی کی دہائیوں میں، جب ہمسایہ ریاستوں کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہوتی تھی، تب بھی کھیل نے ایک نادر وقار برقرار رکھا۔ پاکستان اور بھارت، جنگوں، سفارتی تعطل اور دیرینہ سیاسی مخاصمت کے باوجود، ہاکی، کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں ایک دوسرے کے مدمقابل آتے رہے۔ حالات کشیدہ ضرور ہوتے تھے، مگر یہ کشیدگی کھیل کے جذبے کو شاذ و نادر ہی آلودہ کر پاتی تھی۔ ٹیمیں ایک دوسرے کے ملکوں کا سفر کرتیں، تماشائی جوش کے ساتھ مگر ضبط کے دائرے میں رہ کر مقابلے دیکھتے، اور میدان ایک غیر جانبدار خطہ بن جاتا جہاں انسانیت خاموشی سے دشمنی پر غالب آ جاتی تھی۔
اس دور کو دیکھنے والے آج بھی ان چھوٹے مگر معنی خیز لمحات کو یاد کرتے ہیں جو کھیل کے اصل جذبے کی تعریف تھے۔ کسی فیلڈر کا مخالف بلے باز کے جوتے کے تسمے باندھ دینا، سخت مقابلے کے بعد ایک مسکراہٹ کا تبادلہ، یا مخالف ٹیم کے شاندار شاٹ پر، جرسیاں کسی بھی ملک کی ہوں، تالیاں بجانا کمزوری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ یہ اعتماد کی علامت تھا، اس یقین کا اظہار کہ کھیل سیاست سے بڑا ہے۔
ایسا ہی ایک روشن لمحہ 22 دسمبر 1989ء کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک روزہ میچ میں سامنے آیا۔ وقار یونس کی اِن سوئنگ گیند پر بھارتی بلے باز سری کانت کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی گئی، اور امپائر شکو ررانا نے انگلی اٹھا دی۔ سری کانت نے احتجاج کیا اور میدان چھوڑنے میں تامل کیا۔ اسی لمحے پاکستان کے کپتان عمران خان نے ایسا قدم اٹھایا جو آج کے معیار سے تقریباً ناقابلِ تصور ہے۔ انہوں نے امپائر کے فیصلے کے باوجود سری کانت کو کھیل جاری رکھنے کی دعوت دی۔ سری کانت نے دوبارہ اننگز شروع کی، مگر اگلی ہی گیند پر سلیم یوسف کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اسکور کارڈ میں یہ ایک معمولی آؤٹ درج ہوا، مگر تاریخ نے اسے غیر معمولی ظرف اور فیاضی کے طور پر محفوظ کر لیا۔
اب اس روایت کا موازنہ حالیہ مناظر سے کیجیے، جہاں ٹاس کے بعد مصافحہ تک سے گریز کیا گیا۔ جب ایک بھارتی کپتان نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا، تو یہ محض شخصی بے ادبی نہیں تھی بلکہ اس بات کا اعلان تھا کہ ریاستی سیاست کھیل کے میدان میں باقاعدہ داخل ہو چکی ہے۔ جو میدان کبھی طاقت کی کشمکش سے پناہ گاہ تھا، وہ اب اس کا تسلسل بنتا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی کھیل بظاہر فیڈریشنوں اور کونسلوں کے زیرِ انتظام ہوتے ہیں جو خود کو غیر جانبدار اور ضابطوں کا پابند قرار دیتی ہیں۔ لیکن ان کی غیر جانب داری پر سوالات ہر متنازع فیصلے کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ فروری 2022ء میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد، اکتوبر 2023ء میں روسی اولمپک کمیٹی کو معطل کر دیا گیا۔ روس کو بطور ریاست مقابلوں، بشمول 2026ء سرمائی اولمپکس، میں شرکت سے روک دیا گیا، مالی معاونت بند کر دی گئی اور کھلاڑیوں کو اپنے قومی پرچم تلے کھیلنے کا حق بھی نہ دیا گیا۔ پیغام واضح تھا؛ ریاستی اقدامات کے کھیلوں پر اثرات ہوں گے، چاہے انفرادی کھلاڑی کا موقف کچھ بھی ہو۔
مگر غزہ میں تقریباً دو برس سے جاری تباہ کن تشدد کے بعد، اولمپک کمیٹی کا لہجہ مختلف نظر آیا۔ اس نے مؤقف اختیار کیا کہ کھلاڑیوں کو اپنی حکومتوں کے اقدامات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا—یہ اصول اچانک اُس وقت نمایاں ہوا جب اس کا اطلاق اسرائیلی کھلاڑیوں پر ہوا۔ اس تضاد نے دوہرے معیار اور جانبداری کے الزامات کو جنم دیا۔ ناقدین کے نزدیک اخلاقی اصول مغربی مفادات کے مطابق لچکدار دکھائی دیتے ہیں۔ اولمپک کمیٹی پیچیدگی اور ہر معاملے کے الگ جائزے کی بات کرتی ہے، مگر بہت سے مبصرین کے نزدیک اس عدمِ تسلسل نے اس کی اخلاقی ساکھ کو مجروح کیا ہے۔
کرکٹ بھی اس رجحان سے محفوظ نہیں رہی۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے متعدد مواقع پر مقامات اور فارمیٹ ایسے انداز میں تبدیل کیے جو طاقتور بورڈز، خصوصاً بھارت، کے سیاسی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے محسوس ہوئے۔ 2025ء کی چیمپئنز ٹرافی، جس کی میزبانی پاکستان نے کی، میں بھارت نے سیکیورٹی اور سیاسی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان آنے سے انکار کیا۔ آئی سی سی نے ہائبرڈ ماڈل کے تحت بھارت کے میچز متحدہ عرب امارات منتقل کر دیے۔ ایشیا کپ کے کئی ایڈیشن بھی اسی نوعیت کی ہچکچاہٹ کے باعث منتقل یا ازسرِ نو ترتیب دیے گئے۔
یہ تنازع 2026ء کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مزید گہرا ہو گیا، جس کی مشترکہ میزبانی بھارت اور سری لنکا نے کی۔ بنگلہ دیش نے اپنے گروپ میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی، مگر آئی سی سی نے خطرے کے معتبر شواہد نہ ملنے پر اسے مسترد کر دیا۔ جب بنگلہ دیش نے سفر سے انکار کیا تو اسے اسکاٹ لینڈ سے بدل دیا گیا اور یوں وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔ کوئی جرمانہ عائد نہ ہوا، بلکہ مستقبل میں ایک اضافی ایونٹ کی میزبانی کا وعدہ کیا گیا۔ مگر سوال برقرار رہا؛ بھارت کے لیے غیر جانبدار مقامات کیوں، اور بنگلہ دیش کے لیے اخراج کیوں؟
اس واقعے نے جدید کھیل میں طاقت، سیاست اور اصول کے نازک امتزاج کو بے نقاب کر دیا۔ پاکستان کا ردِعمل نمایاں تھا۔ بنگلہ دیش سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اور دوہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے پاکستان نے کھیل کو اجارہ داری اور اخلاقی انتخابیت سے آزاد کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ بعد ازاں اس نے ٹورنامنٹ کے استحکام کی خاطر شرکت قبول کی، مگر اس ابتدائی حمایت کو بنگلہ دیش میں انصاف پر مبنی اقدام کے طور پر سراہا گیا۔
اپنی بہترین صورت میں کھیل تہذیبی قوت ہے۔ یہ فتح میں ضبط، شکست میں وقار، اور تقسیم کے باوجود احترام سکھاتا ہے۔ جب سیاست کھیل کے میدان کو اپنی کالونی بنا لیتی ہے تو کھیل نہ صرف اپنی معصومیت بلکہ اپنی ساکھ بھی کھو دیتا ہے۔ لاہور 1989ء کا سبق آج بھی زندہ ہے؛ ضابطے اہم ہیں، مگر جذبہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اگر بین الاقوامی کھیل اپنی اخلاقی حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اصولوں کا اطلاق یکساں طور پر کرنا ہوگا اور کھیل کو ایک بار پھر اثر و نفوذ سے آزاد فضا میں سانس لینے دینا ہوگا۔
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=9841
https://dailytimeline.pk/?p=9841
