عید، قربانی اور قوم کے نگہبان تحریر: محمد محسن اقبال

عید ہر سال ایک طویل آزمائش کے بعد چلنے والی نرم و ملائم ہوا کے جھونکے کی مانند آتی ہے، جو اپنے ساتھ معافی، وصل اور شکرگزاری کی خوشبو لے کر آتی ہے۔ یہ وہ دن ہے جب دلوں کی سختی پگھلتی ہے، اختلافات مٹ جاتے ہیں اور خاندان ایک چھت تلے جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اُس نے صبر کی توفیق دی اور خوشیاں نصیب کیں۔ ہر شہر اور ہر گاؤں میں، ہر اُس گلی میں جو روشنیوں اور قہقہوں سے سجی ہو، عید کی روح عام لمحوں کو غیر معمولی مسرت میں بدل دیتی ہے۔
جو لوگ بیرونِ ملک مقیم ہیں یا روزگار اور ضرورتِ معاش کے باعث اپنے ہی وطن کے دوسرے شہروں میں رہتے ہیں، اُن کے لیے عید کی چاہت اور بھی گہری ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ سمندروں اور صحراؤں کو عبور کرتے ہیں، ہجوم سے بھرپور ٹرینوں اور پروازوں کا سفر کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ والدین، بچوں اور بہن بھائیوں کو گلے لگا سکیں۔ وہ گھر لوٹ کر عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ اُن کے نزدیک اہلِ خانہ کی قربت کے بغیر کوئی جشن مکمل نہیں ہوتا۔ اُن کے یہ سفر ایک آفاقی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ عید کی اصل روح نئے لباس یا پرتکلف ضیافتوں میں نہیں، بلکہ باہمی رفاقت اور اپنائیت میں مضمر ہے۔
لیکن جب کروڑوں لوگ اپنے گھروں کے محفوظ حصار میں خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں، تو اسی وقت اس دھرتی کے کچھ سپوت ایسے بھی ہیں جو اُن مقامات پر پہرہ دے رہے ہوتے ہیں جہاں خوشیوں کی رسائی ممکن نہیں۔ وہ سرحدوں پر، سمندری حدود میں، برف پوش گلیشیئرز کی بلند و سرد چوٹیوں پر اور فضاؤں کی وسعتوں میں چوکس اور ثابت قدم کھڑے رہتے ہیں۔ وہ نہ اپنے بچوں کی بانہوں کا حصار محسوس کر سکتے ہیں اور نہ ہی عید کی میز پر اپنے بزرگ والدین کے پہلو میں بیٹھ سکتے ہیں۔ اُن کی جگہ محاذوں پر ہے، جہاں وہ قوم کے اعتماد کی حفاظت کرتے ہیں۔

پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں کشیدگی کی تاریخ طویل ہے، اور یہ بوجھ بہت سی دیگر اقوام کو درپیش نہیں۔ دنیا میں ایسے ممالک بھی موجود ہیں جن کی سرحدیں محض نقشوں پر کھنچی لکیریں ہیں، جہاں ہمسائے بدگمانی کے بغیر خیرسگالی کا تبادلہ کرتے ہیں اور جہاں سپاہی شاذ و نادر ہی خطرے کا سامنا کرتے ہیں۔ مگر ہم اتنے خوش نصیب نہیں۔ ہمارے مشرق اور مغرب کی سمت موجود حالات ہمیں مستقل چوکسی پر مجبور رکھتے ہیں۔ تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ غفلت خطرے کو دعوت دیتی ہے۔ اس لیے جب پوری قوم سجدۂ شکر میں مصروف ہوتی ہے اور عید کی خوشیاں مناتی ہے، تب بھی ہمارے محافظوں کو بیدار اور مستعد رہنا پڑتا ہے۔
یہ محافظ صرف اپنا فرض ادا نہیں کرتے بلکہ قربانی کی عملی تصویر بن جاتے ہیں۔ جب ہمارے گھروں میں بچے تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں اور ہنسی کی صدائیں گونجتی ہیں، تب وہ تپتی دھوپ اور کاٹتی سردی میں افق کو تک رہے ہوتے ہیں۔ برف سے ڈھکی چوٹیوں پر، بے چین ساحلوں کے کنارے، خاموش چوکیدار میناروں میں اور گرجتے ہوئے طیاروں کے اندر، وہ پاکستان کی خودمختاری کے نگہبان بنے کھڑے رہتے ہیں۔ اُن کی عید رنگ و رونق سے نہیں بلکہ استقامت سے عبارت ہوتی ہے۔ اُن کی خوشی اس یقین میں پوشیدہ ہے کہ اُن کے ہم وطن بے خوف ہو کر جشن منا سکیں۔
یہ ایک قابلِ فخر روایت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہان عید کے دن اپنے جوانوں کے ساتھ سرحدوں پر وقت گزارتے ہیں۔ یہ محض رسمی اقدام نہیں بلکہ قیادت اور سپاہی کے درمیان وحدت اور یگانگت کی علامت ہے۔ سادہ کھانا ساتھ کھانا یا محاذ پر کھڑے سپاہیوں کے شانہ بشانہ نماز ادا کرنا اس امر کی توثیق ہے کہ کوئی عہدہ ذمہ داری کی مشقت سے الگ نہیں۔ ایسے لمحات حوصلوں کو تازگی بخشتے ہیں اور ہر سپاہی کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ پوری قوم روحانی طور پر اُس کے ساتھ کھڑی ہے، خواہ فاصلے اُسے اپنے گھر والوں سے جدا رکھیں۔
تاہم عید کے موقع پر ہماری سوچ صرف اُن تک محدود نہیں ہونی چاہیے جو آج پہرہ دے رہے ہیں۔ ہمیں اُن کو بھی یاد رکھنا ہے جو کل انہی مورچوں پر کھڑے تھے اور جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔ پاکستان کے طول و عرض میں ایسے گھر موجود ہیں جہاں عید کی میز پر ایک کرسی ہمیشہ کے لیے خالی رہ گئی ہے؛ جہاں ماں کی نگاہیں دروازے کی طرف اٹھتی ہیں مگر وہ بیٹا کبھی واپس نہیں آئے گا؛ جہاں ایک بیوہ اپنے بچوں کو اُس باپ کا ذکر سناتی ہے جس کی آغوش اب صرف یادوں میں باقی ہے۔ یہ ہمارے شہداء کے گھرانے ہیں، جن کے جوانوں نے قوم کی بقا کے لیے اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔
اُن کے لیے عید غم سے خالی نہیں ہوتی۔ اذان کی صدا میں جدائی کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ہمسایوں کی ہنسی اُنہیں اپنے نقصان کی یاد دلاتی ہے۔ اُن کے پیارے نہ ہاتھوں میں مٹھائیاں لیے لوٹیں گے اور نہ مسکراتے چہرے کے ساتھ عید کی مبارک باد دیں گے۔ وہ نہ عیدگاہ کی صفوں میں شریک ہوں گے اور نہ کھلے آسمان تلے گلے مل سکیں گے۔ مگر اُن کی قربانی ہماری آزادی کی بنیادوں میں پیوست ہو چکی ہے۔
بحیثیت قوم ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم ان خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ صرف تعریفی کلمات ادا کرنا یا رسمی پیغامات دینا کافی نہیں۔ عید کے دن جب ہم تحائف تقسیم کرتے اور مہمان نوازی کرتے ہیں تو ہمیں اپنے محلوں اور شہروں میں شہداء کے گھروں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ایک سادہ سی ملاقات، ایک مشترکہ کھانا، خلوصِ دل سے ادا کیا گیا شکریہ اُنہیں یہ یقین دلا سکتا ہے کہ اُن کی قربانی فراموش نہیں کی گئی۔ جب ہم کسی غم زدہ باپ کے پاس بیٹھتے ہیں یا اُس بچے کو تسلی دیتے ہیں جو اپنے ہیرو کے بارے میں سوال کرتا ہے، تو ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ اس دھرتی پر بہایا گیا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
عید ہمیں ہمدردی، شکرگزاری اور اتحاد کا درس دیتی ہے۔ آئیے ہم اسے صرف خوشی ہی نہیں بلکہ شعور کے ساتھ منائیں۔ اُن محافظوں کے لیے دعا کریں جو ہماری سرحدوں کی نگہبانی کر رہے ہیں کہ وہ بخیریت اپنے گھروں کو لوٹیں۔ اُن شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کریں جو ہم میں نہیں رہے، اور اُن کے اہلِ خانہ کے ساتھ عاجزی اور احترام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اور یہ نہ بھولیں کہ جو امن ہمیں میسر ہے، جو قہقہے ہمارے گھروں میں گونجتے ہیں اور جو آزادی ہمیں بے خوف ہو کر سجدہ کرنے کی اجازت دیتی ہے، وہ سب کسی اور کی بیداری اور قربانی کا ثمر ہیں۔
یوں ہماری عید محض ایک تہوار نہیں رہے گی بلکہ قومی یکجہتی کا مظہر بن جائے گی۔ یہ اُس قوم کی تصویر پیش کرے گی جو جانتی ہے کہ خوشی اُس وقت زیادہ شیریں ہو جاتی ہے جب وہ بانٹی جائے، اور شکرگزاری اُس وقت معنی خیز بنتی ہے جب اُس کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی شامل ہو۔
