ماں — محبت
طاہرہ شمیم (مرکزی نائب صدر ایپسکا)
ماں ایک ایسا لفظ ہے جسے لکھتے ہی دل میں ایک عجیب سی نرمی اور سکون اُتر آتا ہے یہ صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک احساس ہے، ایک سایہ ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر ہمارے ساتھ رہتا ہے ماں وہ ہستی ہے جو اپنی نیندیں قربان کر کے ہماری نیندیں سنوارتی ہے اپنی خواہشات کو دبا کر ہمارے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دیتی ہے دنیا میں اگر بے لوث محبت کی کوئی مثال موجود ہے تو وہ صرف ماں کی محبت ہےمیری زندگی میں بھی ماں کا کردار کسی نعمت سے کم نہیں رہا ہماری ما ں نے جن حالات میں ہمیں پالا وہ آسان نہیں تھے مشکلات، تنگدستی اور بے شمار رکاوٹوں کے باوجود انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری وہ خود بھوکی رہ کر ہمیں کھلاتی رہیں خود تھک کر بھی ہمیں حوصلہ دیتی رہیں
انہوں نے ہمیں صرف جینا نہیں سکھایا بلکہ باوقار زندگی گزارنے کا ہنر بھی دیاآج اگر ہم اس مقام پر کھڑے ہیں تو اس کے پیچھے ہماری ماں کی بے شمار قربانیاں اور دعائیں شامل ہیں میری ما ں نے ہمیشہ ہمیں آگے بڑھنے کی ترغیب دی جب کبھی ہم ہمت ہارتے وہ ہمارے لیے حوصلہ بن جاتیں ان کے الفاظ میں ایک عجیب سی طاقت تھی جو ہمیں دوبارہ کھڑا کر دیتی انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ زندگی میں مشکلات آئیں تو گھبرانا نہیں بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ آج جو کچھ بھی میں ہوں، اس میں میری ماں کا سب سے بڑا ہاتھ ہےلیکن زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہماری وہ مضبوط ماں جو ہمیشہ ہمارا سہارا بنی رہی خود بیماری کے ہاتھوں کمزور پڑنے لگیں کینسر جیسی موذی بیماری نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا یہ لمحہ ہمارے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ جس ما ں نے ہمیں سنبھالا اب وہ ہماری محتاج ہو گئی تھیں لیکن شاید یہی وقت تھا کہ ہم ان کی قربانیوں کا کچھ قرض ادا کر سکیں آج میں اپنی ماں کی خدمت کر رہی ہوں اور یہ میرے لیے کسی بوجھ یا ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اعزاز ہے۔
میں سمجھتی ہوں کہ یہی میری جنت ہےان کے پاس بیٹھنا، ان کی خدمت کرنا، ان کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرنا یہی میری زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ ہے کیونکہ ماں کی دعا سے بڑھ کر دنیا میں کوئی دولت نہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک ماں اس دنیا میں موجود ہوتی ہے اس کی دعائیں ہمارے ہر قدم کے ساتھ چلتی ہیں ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا مگر اس کی ہر دعا ہمیں مشکلات سے بچاتی اور کامیابیوں کی طرف لے جاتی ہے
لیکن جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دعاؤں کا وہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی تھم گیا ہوپھر انسان ہر قدم پر خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، ہر فیصلے میں ایک خلا سا محسوس ہوتا ہے اور دل بار بار یہی چاہتا ہے کہ کاش ایک بار پھر ما ں کی آواز سننے کو مل جائے اس کی دعا کا سہارا مل جائے ما ں وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کے لیے ہر دکھ برداشت کر لیتی ہے مگر اولاد کا معمولی سا دکھ بھی اس سے برداشت نہیں ہوتاہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ما ں کی قدر کریں ان کے ساتھ وقت گزاریں ان کی خدمت کریں اور ان کے لیے دعا کریں کیونکہ جب ما ں ساتھ ہوتی ہے تو زندگی میں برکت ہوتی ہے، اور جب وہ نہیں رہتی تو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ایک خلا رہ جاتا ہے
آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گی کہ میری کامیابی، میرا مقام، میری پہچان سب کچھ میری ما ں کی مرہونِ منت ہےاور آج جب میں ان کی خدمت کر رہی ہوں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں دنیا کی سب سے خوش نصیب بیٹی ہوں کیونکہ ماں کی خدمت ہی دراصل جنت کا راستہ ہے اسلام نے بھی ماں کے مقام کو بہت بلند رکھا ہےجیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے، اور قرآن ہمیں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین کرتا ہے یہی وہ تعلیمات ہیں جو ہمیں ما ں کی قدر اور خدمت کا حقیقی شعور دیتی ہیں
ما ں — صرف ایک لفظ نہیں ایک مکمل کائنات ہے۔تیری گود میں ہی ملا تھا سکونِ جہاں
ما ں، تو ہی میری دنیا، تو ہی میرا آسمان
Table of Contents
https://timelinenews.com.pk/passive-smoking-and-the-overlooked-risk-heart/
https://dailytimeline.pk/?p=10327
