میدانِ جنگ سے ڈیجیٹل دنیا تک
تحریر: عظمی ہرلینی
دنیا میں جنگوں کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کسی ملک کی عسکری طاقت کا اندازہ اسکے ٹینکوں، جنگی جہازوں، میزائلوں اور فوجیوں کی تعداد سے لگایا جاتا تھا، لیکن اکیسویں صدی میں طاقت کا ایک نیا معیار سامنے آ چکا ہے۔ آج وہی ریاست زیادہ محفوظ اور مؤثر سمجھی جاتی ہے جو اپنے ڈیجیٹل نظاموں کا دفاع کرنے، دشمن کے سائبر نیٹ ورکس کو متاثر کرنے اور معلوماتی برتری حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ سائبر اسپیس اب جدید جنگ کا ایک فیصلہ کن محاذ بن چکا ہے۔ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران جہاں فضاؤں میں جنگی طیارے اور سرحدوں پر روایتی عسکری سرگرمیاں عالمی توجہ کا مرکز تھیں، وہیں ایک خاموش مگر نہایت اہم جنگ ڈیجیٹل دنیا میں بھی لڑی جا رہی تھی۔ اس جنگ کے دوران پاک فضائیہ کی سائبر فورس نے "آپریشن ڈیوائن بائٹس” کے نام سے دشمن کے خلاف اپنی کارروائی کا آغاز کیا جس نے ثابت کیا کہ مستقبل کی جنگیں صرف بارود اور گولیوں سے نہیں بلکہ ڈیٹا، نیٹ ورکس، معلومات اور سائبر طاقت کے ذریعے بھی جیتی جائیں گی۔
یہ آپریشن پاکستان ایئر فورس کی بڑھتی ہوئی سائبر صلاحیتوں کا ایک واضح مظہر تھا۔ ایئر کموڈور عطااللہ زیب، ڈائریکٹر جنرل پی اے ایف سائبر فورس کی قیادت میں اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی وژنری رہنمائی کے تحت انجام پانے والا یہ آپریشن اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاک فضائیہ اب صرف فضائی برتری تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ڈیجیٹل میدانِ جنگ میں بھی اپنی مؤثر موجودگی قائم کر لی ہے۔ جدید جنگوں میں سائبر آپریشنز کا مقصد صرف کمپیوٹر سسٹمز کو متاثر کرنا نہیں ہوتا بلکہ دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول، مواصلاتی نظام، لاجسٹک نیٹ ورکس اور فیصلہ سازی کے عمل کو کمزور کرنا بھی ہوتا ہے۔ عالمی عسکری ماہرین کے مطابق اگر کسی ملک کے مواصلاتی نظام میں چند گھنٹوں کے لیے بھی خلل پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات بعض اوقات روایتی حملوں سے کہیں زیادہ سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائبر وارفیئر کو اب "فورس ملٹی پلائر” یعنی ایسی صلاحیت قرار دیا جاتا ہے جو محدود وسائل کے باوجود بڑے تزویراتی نتائج پیدا کر سکتی ہے جسکی واضح مثال پاک فضائیہ نے ڈیجیٹل میدان میں دشمن کو چاروں شانے چت کر کے دی۔
آپریشن ڈیوائن بائٹس نے یہ بھی واضح کیا کہ جدید دور میں دفاعی معلومات ہی اصل طاقت بن چکی ہیں۔ جنگی ماحول میں بروقت اور درست معلومات فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ جو ملک معلومات حاصل کرنے، ان کا تجزیہ کرنے اور انہیں مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ میدانِ جنگ میں نمایاں برتری حاصل کر لیتا ہے۔ اسی تناظر میں اوپن سورس انٹیلیجنس کی اہمیت غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر، جغرافیائی ڈیٹا، سوشل میڈیا سرگرمیاں اور عوامی سطح پر دستیاب دیگر معلومات اب عسکری منصوبہ بندی کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ایسے ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات نہ صرف ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں بلکہ جنگی کارروائیوں کے نتائج کا فوری جائزہ لینے میں بھی مدد فراہم کرتی ہیں۔ مئی 2025 کے بحران کے دوران بھی پاک فضائیہ کے اوپن سورس انٹیلیجنس نے صورتحال کے تجزیے، ممکنہ خطرات کی نشاندہی اور جنگی نقصانات کے تخمینے میں اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ دور میں معلوماتی برتری کسی بھی عسکری کامیابی کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔ آپریشن ڈیوائن بائٹس نے جدید سائبر جنگ کی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے اہم قومی انفراسٹرکچر کو شدید دباؤ سے دوچار کر دیا۔ پاک فضائیہ کی سائبر فورس کی اس کارروائی کے نتیجے میں بھارت کے بجلی کی ترسیلی گرڈز میں خرابی پیدا ہوئی جس سے متعدد بھارتی ریاستوں میں وسیع پیمانے پر بلیک آؤٹس دیکھنے میں آئے۔ علاوہ ازیں پیٹرولیم اور توانائی کی سپلائی چینز متاثر ہونے سے بھارت میں ایندھن کی ترسیل کئی روز تک شدید تعطل کا شکار رہی، جبکہ دفاعی شعبے اور سرکاری ڈیٹا سینٹرز پر سائبر دباؤ کے باعث متعدد نظاموں میں نقائص اور سسٹم کمپرومائزز رپورٹ ہوئے۔ مزید برآں، بھارتی حساس معلومات کے افشاء، اہم ریکارڈز کے حذف ہونے اور سرکاری و دفاعی پلیٹ فارمز کی سروسز میں رکاوٹوں نے حریف کے معلوماتی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا۔ اس آپریشن کے دوران پاک فضائیہ کی سائبر فورس نے ہندوستان کے مواصلات کے شعبے کو بھی نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں ہوائی اڈوں اور ریلوے کے آپریشنل پورٹلز اور کنٹرول سسٹمز میں خلل پیدا ہوا، جس سے دوران جنگ دشمن کے ذرائع مواصلات میں تاخیر، رکاوٹیں اور اہم قومی نیٹ ورکس میں وسیع پیمانے پر بدانتظامی جنم لیتی رہی۔
پاک فضائیہ کی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو مختلف جنگی شعبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی بھی ہے۔ سائبر وارفیئر، الیکٹرانک وارفیئر، مصنوعی ذہانت، نگرانی کے جدید نظام اور روایتی فضائی طاقت کو ایک مربوط فریم ورک میں شامل کرنا مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی کا بنیادی تقاضا بن چکا ہے۔ پاک فضائیہ نے گزشتہ چند برسوں کے دوران انہی شعبوں میں غیر معمولی سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی ترقی پر توجہ دی ہے۔ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے نہ صرف جدید ہتھیاروں اور پلیٹ فارمز کے حصول پر توجہ دی بلکہ سائبر وارفیئر، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ملٹی ڈومین آپریشنز جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کو بھی اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا لازمی جزو بنایا۔ یہی دور اندیشی آج پاک فضائیہ کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک جدید اور ٹیکنالوجی سے لیس فورس کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔ حال ہی میں "معرکۂ حق” کی یادگاری تقریب میں پی اے ایف سائبر فورس کو دی جانے والی خصوصی پذیرائی بھی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ سائبر آپریشنز اب قومی دفاع کے ایک اہم ستون کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ آج کے دور میں سائبر ماہرین بھی اتنے ہی اہم سمجھے جاتے ہیں جتنے روایتی جنگی محاذوں پر خدمات انجام دینے والے افسران اور جوان۔ سائبر جنگ کا ایک نفسیاتی اور تزویراتی پہلو بھی ہے۔ جدید تنازعات میں صرف زمینی یا فضائی برتری ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ عالمی رائے عامہ، اطلاعاتی بیانیے اور نفسیاتی اثرات بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے ڈیجیٹل میدان میں برتری حاصل کرنا محض عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک مؤثر تزویراتی پیغام بھی ہوتا ہے جو دوست اور دشمن دونوں تک پہنچتا ہے۔ آپریشن ڈیوائن بائٹس درحقیقت صرف ایک سائبر مہم نہیں تھا بلکہ یہ جدید جنگ کے بدلتے ہوئے خدوخال کی ایک واضح مثال تھا جس نے ثابت کیا کہ مستقبل کے میدانِ جنگ صرف سرحدوں، فضاؤں اور سمندروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سرورز، ڈیجیٹل نیٹ ورکس، سیٹلائٹس اور معلوماتی نظام بھی جنگی حکمتِ عملی کے مرکزی عناصر ہوں گے۔
مئی 2025 کا جنگی بحران دنیا کے لیے ایک اہم سبق تھا کہ آنے والی جنگوں کا فیصلہ صرف فوجیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کی طاقت سے نہیں ہوگا بلکہ ٹیکنالوجی، معلوماتی برتری، سائبر صلاحیتوں اور مختلف جنگی شعبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی سے ہوگا۔ اس تناظر میں پاکستان ایئر فورس نے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنے اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ڈیجیٹل جنگ کا دور اب مستقبل کا خواب نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکا ہے، اور پاک فضائیہ کا آپریشن ڈیوائن بائٹس اسی نئی حقیقت کی ایک نمایاں علامت ہے۔
Table of Contents
https://timelinenews.com.pk/protecting-our-skies-this-eid-ul-azha/
مزید دریافت کریں
https://dailytimeline.pk/?p=10333
