ہیلتھ اور میڈیکل کے شعبے اور بزنس میں درپیش مسائل

تحریر و ترتیب
عبدالوحید بابی
آل پاکستان ایسوسی ایشن آف ہیلتھ اینڈ میڈیکل آرگنائزیشنز
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہیلتھ اور میڈیکل کے تجارتی معاملات خاص طور پر ہیلتھ کے بزنس سیکٹر پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں مگر دوسروں کی نسبت پاکستان میں ہیلتھ اور میڈیکل کا شعبہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے جس کی سب سے بڑی وجہ صحت کے شعبے پر گورنمنٹ کی جانب سے بہت کم اخراجات اور منصوبے بجٹ میں رکھنا تو دوسری جانب سخت ترین انتظامی پالیسیوں کا نفاذ ہے ، موجودہ بجٹ میں ہیلتھ و میڈیکل سیکٹر کوئی خصوصی توجہ نہیں دی گئی یہ اخراجات بجٹ کے حوالے سے ٹوٹل جی ڈی پی کے مطابق بمشکل ایک یا دو فیصد کے قریب قریب ہیں اور اس بڑھتے بحران کی وجہ دنیا بھر اور ڈبلیو ایچ او کی جانب سے دی جانے والی امداد پر ضرورت سے زیادہ انحصار ، عام پاکستانی پر بڑھتا مالی بوجھ اور بجٹ میں ہیلتھ سیکٹر کو نظر انداز کرنا و غیر لچکدار پالیسیاں بنانا شامل ہے یہاں ترجیحات پر بحث بہت ضروری ہے گورنمنٹ کے زیر سایہ ہسپتال اور ہیلتھ سیکٹر کے دیگر ادارے عوام کی بنیادی صحت کے لئے جدید علاج کے تقاضوں ، جدید مشینری اور ادویات پر ترجیح دینے کے بجائے تعمیراتی ڈھانچے لگزری سہولیات اور دیگر غیر ضروری معاملات میں الجھے نظر آتے ہیں دوسری جانب ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ہیلتھ سیکٹر کے لیے جو بین الاقوامی امداد مختلف ذرائع سے حاصل ہوتی تھی اب اس میں نمایاں کمی نظر آتی ہے جس کی وجہ غیر ضروری پالیسیاں اور ترجیحات ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری سطح پر نہ صرف گورنمنٹ کے ادارے بلکہ پرائیویٹ سیکٹر پر خصوصی نظر ثانی کی جائے پالیسیوں میں نرمی کی جائے ٹیکسز پر نصر نظر ثانی کی جائے تاکہ اس کا فائدہ ایک جانب ہیلتھ سیکٹر میں بزنس کرنے والوں پر ہو تو دوسری جانب نچلی سطح پر عام عوام کو بھی اس کا بھرپور فائدہ ہو ، موجودہ حکومت میں ہیلتھ منسٹر مصطفیٰ کمال ایک منجھے ہوئے اور منفرد اور تعمیراتی سوچ کے حامل شخصیت ہیں ہم ہیلتھ و میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد ان سے خصوصی توجہ کے متلاشی ہیں ۔
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=10498
