کاش میں خاکِ مدینہ ہوتا تحریر محمد محسن اقبال
کاش میں خاکِ مدینہ ہوتا تحریر: محمد محسن اقبال

کبھی کبھی ایسے لمحے آتے ہیں جب تخیل عبادت کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جب دل صدیوں کے فاصلے طے کرتا ہوا مدینۂ منورہ کی مقدس سرزمین پر جا ٹھہرتا ہے۔ ایسے لمحوں میں، میں خود کو نہ کسی مسافر کی حیثیت سے دیکھتا ہوں، نہ کسی عالم یا قلم کار کے طور پر۔ میں اپنے آپ کو اس سے بھی کہیں زیادہ عاجز تصور کرتا ہوں—مدینہ کی اس بابرکت راہ کی ایک بے نام اور بے نشان ذرّۂ خاک کے طور پر، جس پر کبھی اللہ کے محبوب رسول، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے قدمِ مبارک پڑتے تھے۔
اگر میں وہ خاک ہوتا تو میرے پاس کوئی آواز نہ ہوتی، مگر میری خاموشی اپنے اندر ایسی داستان سموئے ہوتی جو الفاظ سے کہیں زیادہ عظیم ہوتی۔ میرا وجود نہایت معمولی اور بے وزن ہوتا، مگر میری قسمت بے اندازہ قیمتی ہوتی۔ آخر اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسان مدینہ کی کسی گلی کی خاک بن جائے اور لرزتی ہوئی آرزو کے ساتھ اس لمحے کا انتظار کرے جب رسولِ اکرم ﷺ کے قدم اس پر پڑیں۔
مدینہ کی ہر صبح میرے لیے ایک نئی آرزو کا سویرا ہوتی۔ میں خاموشی سے زمین پر پڑا ہوا، ہوا کے نرم جھونکوں کو اپنے اوپر سے گزرتا محسوس کرتا۔ میرے اردگرد شہر بیدار ہو رہا ہوتا—لوگ نماز کی تیاری میں مصروف، دلوں میں اس ہستی کی محبت موجزن جس کی آمد نے ایک سادہ سے صحرا نشین شہر کو نور کا مرکز بنا دیا تھا۔ مگر اگر خاک کی بھی کوئی نگاہ ہو سکتی، تو میری نگاہ صرف ایک امید پر جمی رہتی؛ کہ شاید آج اس راستے سے رسولِ اکرم ﷺ کے قدم گزر جائیں۔
اور پھر آخرکار وہ لمحہ آ جاتا۔ حضور اکرم ﷺ جلوہ افروز ہوتے—اس وقار اور جمال کے ساتھ جسے بیان کرنے سے تاریخ بھی عاجز نظر آتی ہے۔ آپ کی ذات میں جلال بھی ہوتا اور انکسار بھی، نور بھی ہوتا اور شفقت بھی۔ جب آپ کا قدمِ مبارک زمین کو چھوتا تو میں، ایک معمولی ذرّۂ خاک، ایسی مسرت محسوس کرتا جس پر شاید آسمانوں کو بھی رشک آ جائے۔ میں آپ کی نعلینِ مبارک کے تلوے سے لپٹ جاتا، شکرگزاری سے لرزتا ہوا دل ہی دل میں عرض کرتا:
“اے میرے ربِّ کریم! اس وسیع زمین کے بے شمار ذروں میں سے تو نے مجھے اس سعادت کے لیے چُن لیا۔”
اگر خاک کے بھی آنسو ہوتے تو میں اس لمحے ضرور رو پڑتا۔
یہی وہ جذبہ ہے جو حضور ﷺ کے سچے عشاق کے کلام میں جھلکتا ہے۔ صوفی بزرگ اور عاشقِ رسول حضرت پیر مہر علی شاہؒ نے اپنے پنجابی کلام میں اسی کیفیت کو اس انداز سے بیان کیا ہے کہ سننے والا بے اختیار اشکبار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح معروف بیوروکریٹ اور صاحبِ دل شخصیت قدرت اللہ شہاب جب مدینۂ منورہ پہنچے تو عقیدت کے عالم میں وہاں کی خاک اپنی آنکھوں میں ڈال لی—گویا یہ اعلان کہ اس خاک کا ذرّہ ذرّہ بھی ان کے لیے دنیا کی ہر دولت سے بڑھ کر ہے۔
کتنی خوش نصیب ہوتی وہ خاک جسے مدینہ کی ہوا اٹھا کر آہستگی سے حضور ﷺ کے لباسِ مبارک پر بکھیر دیتی۔ کتنی مبارک ہوتی وہ مٹی جو آپ ﷺ کے قدموں کے نیچے رہتی جب آپ مسجد کی طرف تشریف لے جاتے، یا غریبوں کے گھروں کی جانب بڑھتے، یا ان گلیوں سے گزرتے جہاں بچے مسکراتے ہوئے آپ کا استقبال کرتے۔
کبھی میں یہ بھی تصور کرتا ہوں کہ مدینہ کی نرم ہوا مجھے اس راستے سے اٹھا کر مسجدِ نبوی ﷺ کے دروازے تک لے آئے۔ وہاں میں خاموشی سے پڑا رہوں جبکہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حلقہ بنائے حضور ﷺ کے گرد بیٹھے ہوں۔ ان کے دل محبت اور ادب سے لبریز ہوں اور وہ آپ کے ارشادات سن رہے ہوں—وہ ارشادات جنہوں نے سنگدل انسانوں کو بھی رحمت سے بھرے دل عطا کر دیے۔
کبھی حضور ﷺ تبسم فرماتے، اور آپ کی مسکراہٹ محفل کو چاندنی کی طرح منور کر دیتی۔ یہی وہ حسن ہے جسے فارسی کے عظیم شاعر جامیؒ نے اپنے اشعار میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ کبھی آپ نہایت نرمی اور شفقت سے گفتگو فرماتے، اور انسانیت کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف رہنمائی دیتے۔ اور میں، زمین پر پڑا ایک معمولی ذرّۂ خاک، خاموش شکرگزاری کے ساتھ اس منظر کو محسوس کرتا—یہ جانتے ہوئے کہ آسمانوں کے فرشتے بھی اس مجلس کی برکتوں کے متمنی ہوتے۔

ہر زمانے میں عاشقانِ رسول نے اس جذبے کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ آج بھی نعتوں کی روح پرور محفلوں میں جب محبت سے لبریز آوازیں گونجتی ہیں، حتیٰ کہ جدید دور میں بھی جب ابرار الحق جیسے فنکار عقیدت کے ساتھ نعت پڑھتے ہیں، تو اس میں وہی تڑپ سنائی دیتی ہے—حضور ﷺ کے قریب ہونے کی تڑپ، آپ سے نسبت کی آرزو، اور ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہونے کی خواہش جنہیں آپ کی صحبت نصیب ہوئی۔
مگر اس خاک کا سب سے بڑا فخر صرف یہ نہ ہوتا کہ وہ حضور ﷺ کے قدموں کو چھو لے۔ اس کا اصل فخر یہ ہوتا کہ وہ آپ کے اخلاقِ کریمانہ کی جھلک دیکھ سکے—وہ عاجزی، وہ رحمت اور وہ شفقت جو آپ کی ذات سے جاری تھی۔ رسولِ اکرم ﷺ اس زمین پر کسی متکبر بادشاہ کی طرح نہیں چلے۔ آپ اللہ کے ایک عاجز بندے کی طرح چلے—غریبوں کو سلام کرتے ہوئے، کمزوروں کو تسلی دیتے ہوئے، اور دشمنوں کو بھی معاف کرتے ہوئے۔ حتیٰ کہ آپ کے قدموں کے نیچے کی خاک بھی اس رحمت کو محسوس کرتی۔
اور پھر جب معراج کی وہ مقدس رات آئی، میں اپنے تخیل میں خود کو مدینہ کی خاک پر خاموشی سے پڑا دیکھتا ہوں، جبکہ آسمان ایک ایسے لمحے کی تیاری کر رہے ہیں جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس رات اللہ کے محبوب ﷺ کو زمین سے بلند کر کے آسمانوں کی سیر کرائی گئی—ایسا شرف جو کسی اور انسان کو نصیب نہیں ہوا۔ فرشتوں نے استقبال کیا، انبیاء نے مرحبا کہا، اور آپ کو قربِ الٰہی کی وہ منزل عطا ہوئی جسے الفاظ مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتے۔
لیکن آسمانوں کی اس عظیم شان و شوکت کے بعد بھی آپ ﷺ دوبارہ زمین پر واپس تشریف لائے—اپنی امت کی رہنمائی کے لیے، اس کے لیے دعا کرنے کے لیے، اور مدینہ کی انہی خاک آلود گلیوں میں چلتے رہنے کے لیے۔ اور شاید اللہ کی رحمت سے دوبارہ آپ کے قدم اسی خاک پر پڑتے جسے میں اپنے تخیل میں اپنا وجود سمجھ رہا تھا۔
اگر میں وہ خاک ہوتا تو میں کبھی یہ نہ چاہتا کہ آپ کے قدموں سے بلند ہو جاؤں۔ میری ساری شان اسی میں ہوتی کہ ہمیشہ آپ کے قدموں کے نیچے رہوں۔ کیونکہ مدینہ کی خاک بن کر حضور ﷺ کے قدموں کے نیچے رہنا دنیا کے کسی بھی تخت و تاج سے کہیں بلند مقام ہے۔
محبت کا یہی عجیب راز ہے کہ سچا عاشق بلندی نہیں چاہتا بلکہ عاجزی چاہتا ہے۔ وہ دوسروں سے اوپر اٹھنے کی خواہش نہیں رکھتا بلکہ عقیدت کی خاک میں گم ہو جانا چاہتا ہے۔ اور اگر اللہ کسی کو اس سعادت کا ایک ذرّہ بھی عطا کر دے تو وہ خاک کا ذرّہ بھی بادشاہوں سے زیادہ امیر ہو جاتا ہے—کیونکہ اسے کبھی محمد ﷺ، اللہ کے محبوب رسول، کے قدموں کے نیچے رہنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔
