بھارتی عدالتی آمریت اور کشمیری خواتینِ حریت کا عزمِ نو
تحریر: افشاں کیانی
(سماجی رہنما)
بھارت، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتا، آج اس کا اصل چہرہ عالمی برادری کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اب صرف گلی کوچوں اور فوجی چھاؤنیوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ بھارت کا عدالتی نظام بھی اب کشمیریوں کی نسل کشی اور استحصال کے لیے ایک "آلہ کار” بن چکا ہے۔ حال ہی میں بھارتی "کنگرو کورٹس” کی جانب سے حریت خواتین رہنماؤں سیدہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو جعلی مقدمات میں سنائی جانے والی سنگین سزائیں اس عدالتی دہشت گردی کی تازہ ترین مثال ہیں۔ حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے اپنے حالیہ بیان میں اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کشمیری قیادت کو جسمانی طور پر ختم کرنے اور ان کے حوصلے پست کرنے کے لیے اپنی عدلیہ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری خواتین رہنماؤں کو نشانہ بنانا دراصل اس مزاحمتی تحریک کو کچلنے کی کوشش ہے جو دہائیوں سے بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ سپر ہے۔
کشمیر میں انصاف کا نام و نشان مٹ چکا ہے کیونکہ نام نہاد سیکولر بھارت کی عدالتیں اب آزاد نہیں رہیں، بلکہ وہ بھارتی ایجنسیوں کے اشاروں پر ناچ رہی ہیں۔ ان خواتین رہنماؤں کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے لیے آواز اٹھائی اور غاصب قبضے کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ مشال ملک کے بقول، یہ سزائیں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے تمام چارٹرز کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جہاں سیاسی مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے عدالتوں کے ذریعے "عدالتی قتل” کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو سلاخوں کے پیچھے قید نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی جبر و استبداد کے ذریعے کسی قوم کی آزادی کی تڑپ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ بھارت کا اصل ہدف کشمیر کی نوجوان نسل اور خاندانی نظام ہے، جہاں ایک منظم سازش کے تحت نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کر کے مستقبل کو مفلوج کیا جا رہا ہے اور بوڑھے والدین سے ان کے بڑھاپے کے سہارے چھینے جا رہے ہیں۔
جس دھرتی پر محبت کے زمزمے بہنے چاہیے تھے، وہاں حب الوطنی کے جرم میں "ماؤں کی گودیں” اجاڑی جا رہی ہیں۔ اس درندگی کی انتہا یہ ہے کہ معصوم بچوں کے سامنے ان کی ماؤں کی چادریں نوچی جاتی ہیں اور انہیں ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ کیسا سیکولر ملک ہے جہاں عورت کی تذلیل کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے؟ ہماری کشمیری بہنیں اور مائیں دہائیوں سے ایسے ذہنی، جسمانی اور روحانی تشدد کا شکار ہیں جس کا تصور بھی روح کانپا دیتا ہے۔ پیلیٹ گنز سے چھلنی آنکھیں ہوں یا بیوہ اور نیم بیوہ خواتین کی سسکیاں، کشمیر کا ہر گھر ایک نئی داستانِ غم سنا رہا ہے۔ سیدہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کو دی جانے والی سزائیں دراصل تمام کشمیری خواتین کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے جو اپنے بیٹوں اور شوہروں کی قربانی دے کر بھی آزادی کے پرچم کو تھامے ہوئے ہیں۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی خاموشی اس عدالتی دہشت گردی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ مشال ملک نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے علمبردار آخر کب تک اس بھارتی جنونیت پر آنکھیں بند کیے رکھیں گے؟ کیا کشمیریوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں؟ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھارت کے "سیکولر نقاب” کو اتار پھینکے اور کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا فوری نوٹس لے۔ ظلم کی یہ سیاہ رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اسے ختم ہونا ہے اور کشمیر کے افق پر آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔ بھارت یہ حقیقت فراموش نہ کرے کہ وہ زمین پر تو غاصبانہ قبضہ کر سکتا ہے، لیکن کشمیریوں کے دلوں میں موجزن جذبہِ حریت اور خواتینِ کشمیر کے آہنی عزم کو کبھی شکست نہیں دے سکتا۔ پوری قوم ان عظیم خواتین کی استقامت کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کی جلد رہائی کے لیے دعاگو ہے۔
Table of Contents
https://timelinenews.com.pk/belt-road-ambassador-scholarship-award-cer/
