دشتِ آزمائش سے گلزارِ کامیابی تک تحریر:محمد محسن اقبال

سخت و سنگلاخ زمین کو ہل چلانے سے لے کر بیج بونے تک، تپتے سورج کی تمازت میں پانی ڈھونے سے لے کر آخرکار سنہری فصل سمیٹنے تک، ایک کسان اپنا پسینہ نچوڑ دیتا ہے اور دل کی گہرائیوں سے ربِّ کائنات پر بھروسا رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ زمین سستی کرنے والوں کو نہیں بلکہ صبر کرنے والوں اور ثابت قدم رہنے والوں کو اپنی نعمتوں سے نوازتی ہے۔ وقت کے ساتھ وہ اپنی محنت کا پھل اپنے کھلیانوں میں بھرا دیکھتا ہے۔ یہی اصول افراد اور اقوام دونوں پر یکساں صادق آتا ہے۔ جہاں دیانت دارانہ محنت، بے خوف جرأت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جائے، وہاں انعام ایسے ہی یقینی ہوتا ہے جیسے موسموں کی گردش۔ انسان وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے—یہ ازلی حقیقت گزشتہ سال ماہِ مئی میں پاکستان کے آزمائش و کامیابی کے سفر میں پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہوئی۔
جب بھارت نے بلااشتعال جارحیت کا مظاہرہ کیا تو پاکستان نے نہایت وقار اور ثابت قدمی کے ساتھ جواب دیا۔ یہ کسی عجلت یا جذباتی ردعمل کا مظہر نہ تھا بلکہ خودمختاری کے دفاع کی ایک سنجیدہ، متوازن اور باوقار حکمتِ عملی تھی، جس کی بنیاد برسوں کی نظم و ضبط اور قومی عزم پر استوار تھی۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستانی افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور حکمت و تحمل کا ایسا مظاہرہ کیا کہ پاکستان کو تنہا کرنے کے خواہاں حلقے ششدر رہ گئے، جبکہ حق و صداقت کی روشنی نے قوم کے نام کو چار دانگِ عالم میں بلند کر دیا۔ عزت خود بخود نصیب ہوئی، کامیابیاں یکے بعد دیگرے قدم چومتی گئیں، اور پاکستان نے عالمی منظرنامے پر ایک منفرد وقار حاصل کر لیا۔
اس تبدیلی کی سب سے روشن جھلک واشنگٹن میں دکھائی دی۔ ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر پاکستان کے سپہ سالار، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا گیا—یہ اعزاز شاذ و نادر ہی کسی حاضر سروس فوجی قائد کو حاصل ہوتا ہے جو سربراہِ مملکت نہ ہو۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہایت گرمجوشی اور کھلے دل کے ساتھ پاکستانی قیادت سے طویل ملاقات کی، اور برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ جنرل عاصم منیر اور سویلین حکومت نے 2025 کے بحران کو ایک ایسے سانحے میں تبدیل ہونے سے روکا جو پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتا تھا، حتیٰ کہ ایٹمی تصادم کے خدشات بھی سر اٹھا سکتے تھے۔ اپنی مخصوص بے باکی کے ساتھ امریکی صدر نے وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کو “دو غیرمعمولی شخصیات” قرار دیا—یہ تعریف نہ صرف سفارتی وزن رکھتی تھی بلکہ پاکستان کی بصیرت اور پختگی پر عالمی اعتماد کی نئی علامت بھی بنی۔
باہمی احترام کے ماحول میں ہونے والی ملاقاتوں میں سول و عسکری قیادت نے یکجا ہو کر شرکت کی، خصوصاً وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مشترکہ موجودگی نے قومی یکجہتی کی ایک مضبوط اور مربوط تصویر پیش کی۔ اس ہم آہنگی نے پاکستان کی سفارتی ساکھ کو نئی زندگی بخشی۔ عملی نتائج بھی سامنے آئے؛ ایک تجارتی مفاہمت جس نے پاکستانی برآمدات پر عائد امریکی محصولات میں نرمی پیدا کی، توانائی کے شعبے میں تعاون کے امکانات روشن ہوئے، اور امریکی سرمایہ کاری کے نئے در وا ہوئے۔ یوں قلیل مدت میں پاکستان سفارتی تنہائی سے نکل کر واشنگٹن کی نظر میں ایک معتبر تزویراتی شراکت دار بن کر ابھرا۔
تاہم پاکستان کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ کسی ایک دارالحکومت تک محدود نہ رہا۔ اس نے نہایت وقار کے ساتھ ایک پل کا کردار اختیار کر لیا، جہاں متحارب قوتیں بھی رابطے کے لیے پاکستان پر اعتماد کرنے لگیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں پاکستانی سفارت کاری نے خاموشی مگر مؤثر انداز میں مکالمے کے در وا کیے، خصوصاً آبنائے ہرمز کے حساس پانیوں میں جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں میں معاونت کی۔ ایسی ذمہ داریاں ساکھ، غیرجانبداری اور دانائی کا تقاضا کرتی ہیں—اور پاکستان نے ان اوصاف کا مظاہرہ بڑھتے ہوئے اعتماد کے ساتھ کیا۔
قطر، بحرین، مصر اور دیگر اسلامی و یورپی ممالک کے ساتھ تعاون کی نئی شمعیں روشن ہوئیں۔ نہ صرف متعلقہ خطہ بلکہ پوری دنیا نے خلیج میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی مفاہمتی پالیسی کو سراہا۔ مختلف اقوام نے اپنی زبانوں میں نغمے اور ترانے گا کر پاکستان کے معتدل، امن پسند رویے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
روایتی تعلقات مزید مستحکم اور بارآور ہوئے۔ سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط میں خلوص اور عملی بصیرت نمایاں رہی۔ دفاعی تعاون کو وسعت ملی، توانائی کے منصوبوں اور سرمایہ کاری میں اشتراک نے اس دیرینہ رشتے میں نئی روح پھونک دی، جو مشترکہ عقیدے اور اخوت کی بنیاد پر قائم ہے۔
عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری ایک نئے متحرک مرحلے میں داخل ہوئی۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری نے نئی رفتار پکڑی، جس کے تحت بنیادی ڈھانچے، توانائی اور رابطہ کاری کے منصوبے تکمیل کے قریب پہنچنے لگے۔ بیجنگ نے پاکستان میں ایک ایسا قابلِ اعتماد اور آزمودہ اتحادی پایا جس کی عسکری مضبوطی اور سفارتی توازن نے بدلتی عالمی صف بندی میں اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ پاکستان نے اس طرح کثیر جہتی تعلقات کو مہارت سے برقرار رکھا، بغیر اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ کیے۔
ترکی کے ساتھ برادرانہ تعلقات بھی مزید فروغ پاتے رہے۔ مشترکہ فوجی مشقوں اور ٹیکنالوجی کے تبادلے سے دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا، جبکہ بین الاقوامی فورمز پر سفارتی ہم آہنگی نے دونوں ممالک کے موقف کو تقویت بخشی۔ ثقافتی روابط اور تجارتی تعلقات نے اس دوستی کو انسانی سطح پر بھی مزید گہرا کیا، اور گزشتہ سال کے بحران کے بعد ظاہر ہونے والی یکجہتی نے اس رشتے کو اور مضبوط کر دیا۔
ان تمام کامیابیوں کی بنیاد پاکستان کی مسلح افواج کی بڑھتی ہوئی ساکھ پر استوار ہے۔ مئی 2025 کے عسکری ردعمل کو اندرونِ ملک ایک درخشاں کامیابی قرار دیا گیا، جس نے دفاعی صلاحیت اور قومی حوصلے کو جلا بخشی۔ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست، پیشہ ور فوجی قوت، اور ایک ایسے مستحکم کردار کے طور پر تسلیم کیا گیا جو جلدبازی کے بجائے تحمل کو ترجیح دیتا ہے۔ مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں نے اس وقار کو مزید جِلا بخشی، اور پاکستانی سپاہ کی عزت ایک عالمی حقیقت بن کر ابھری۔
یہ تمام کامیابیاں بغیر قیمت کے حاصل نہیں ہوئیں۔ جس طرح کسان طویل دنوں اور غیر یقینی موسموں کا سامنا کرتا ہے، اسی طرح پاکستان نے بھی مشکلات کے بیچ حوصلے اور اتحاد کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔ آج اس محنت کی فصل نمایاں ہے: عالمی مجالس میں مضبوط آواز، تازہ دم دوستیوں کی بہار، معاشی امید کی نئی کرن، اور ایک خاموش فخر جو ہر پاکستانی کے دل میں موجزن ہے۔ تاہم بیداری ناگزیر ہے۔ اقوام کے کھیت کو مسلسل نگہداشت درکار ہوتی ہے تاکہ آنے والے موسم مزید زرخیز ثابت ہوں۔ کیونکہ ازل سے یہی اصول کارفرما ہے کہ جو قوم اخلاص، قربانی اور ایمان کے ساتھ جو کچھ بوتی ہے، وہی اسے عزت، وقار اور پائیدار خوشحالی کی صورت میں ضرور ملتا ہے۔
مزید پڑھیں: دشتِ آزمائش سے گلزارِ کامیابی تکTable of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=10136
https://timelinenews.com.pk/veils-of-deception-famous-false-flags-that/
