ماہرہ خان رائلٹی سسٹم
اداکارہ نے پاکستانی انڈسٹری میں مالی عدم توازن پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فنکاروں کے لیے بہتر معاوضہ اور مستقل رائلٹی نظام کی ضرورت پر زور دیا
ماہرہ خان نے پاکستانی فلم اور ٹی وی انڈسٹری میں فنکاروں کے لیے بہتر مالی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسٹرکچرڈ تنخواہوں اور رائلٹی سسٹم متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں زیادہ تر فنکار، خصوصاً نئے اور معاون اداکار، مالی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
حال ہی میں واسع چوہدری کے عید شو میں گفتگو کرتے ہوئے ماہرہ خان نے اس مسئلے پر کھل کر بات کی۔ اس موقع پر اداکار فہد مصطفیٰ بھی موجود تھے۔ ماہرہ نے کہا کہ انڈسٹری میں آمدنی کی تقسیم غیر متوازن ہے، جہاں سینئر فنکار نسبتاً آسانی سے بہتر معاوضہ حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ نئے آنے والوں کو بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔
رائلٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہرہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں فنکاروں کو ان کے کام کے بدلے مسلسل آمدنی فراہم کی جاتی ہے، جس سے انہیں طویل مدتی مالی تحفظ ملتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں بھی ایسا نظام ہونا چاہیے تاکہ فنکاروں کو معاشی مشکلات سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ ٹی وی چینلز اور براڈکاسٹرز اکثر پروگرامز سے بڑی آمدنی حاصل کرتے ہیں، لیکن اس کا فائدہ فنکاروں تک مساوی طور پر نہیں پہنچتا۔ خاص طور پر جونیئر اداکاروں، تکنیکی عملے اور دیگر پسِ پردہ کام کرنے والوں کو مناسب معاوضہ اور سہولیات نہیں ملتیں۔
اگرچہ ایکٹرز کلیکٹو ٹرسٹ اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن جیسی تنظیمیں موجود ہیں، تاہم ماہرہ کے مطابق ابھی تک ان مسائل کا کوئی مؤثر حل سامنے نہیں آ سکا۔ ماضی میں سینئر اداکارہ نائلہ جعفری کی مثال بھی دی جاتی ہے، جنہیں بیماری کے دوران اپنے علاج کے اخراجات خود برداشت کرنے پڑے۔
ماہرہ خان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ بطور کامیاب اداکارہ بہتر پوزیشن میں ہیں، لیکن ان کی خواہش ہے کہ انڈسٹری کے تمام افراد کو یکساں مواقع، پہچان اور مالی تحفظ حاصل ہو۔ انہوں نے اس معاملے پر سنجیدہ مکالمے اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو مزید مضبوط اور منصفانہ بنایا جا سکے۔
