لائی بے قدراں نال یاری تحریر: محمد محسن اقبال

جب قوت کا مظاہرہ حکمت و دانائی سے عاری ہو جائے تو وہ اکثر تنہائی کے اندھیروں میں جا گرتا ہے۔ عصرِ حاضر کی عالمی سیاست کے اسٹیج پر امریکہ بدستور ایک طاقتور کردار کے طور پر موجود ہے، مگر اس کی موجودہ قیادت اُن اتحادیوں سے بتدریج دور ہوتی دکھائی دیتی ہے جو کبھی اس کی قوت کو مہمیز دیتے تھے۔ امریکہ تنہا نہیں، مگر اس کا صدر ایک عجیب سی تنہائی کا شکار نظر آتا ہے۔ یہ فرق نہ محض لفظی ہے اور نہ ہی معمولی؛ بلکہ یہ ایک ایسی خلیج کی نشاندہی کرتا ہے جو ریاست کی پائیدار طاقت اور قیادت کی متزلزل ساکھ کے درمیان حائل ہو چکی ہے۔
پالیسی سازی کی بے ربط رفتار—وہ فیصلے جو دن کی روشنی میں اعلان ہوتے ہیں اور رات کی تاریکی میں بدل دیے جاتے ہیں—نے دیرینہ اتحادیوں کو بھی مضطرب کر دیا ہے۔ سفارت کاری کا حسن تسلسل میں ہے، اس یقین میں ہے کہ آج کا وعدہ کل بھی معتبر رہے گا۔ جب پالیسی خود ایک متحرک ہدف بن جائے تو اعتماد ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے، اور اسی کے ساتھ اتحادوں کی نازک عمارت بھی لرزنے لگتی ہے۔ یہ زوال وقتی سیاسی بے چینی تک محدود نہیں رہتا بلکہ امریکہ کی اُس شہرت کو بھی متاثر کرتا ہے جو ایک قابلِ اعتماد شریکِ کار کے طور پر برسوں میں تشکیل پائی تھی۔
بین الاقوامی تعلقات کے مؤرخین جب اس دور کا جائزہ لیں گے تو وہ ضرور پوچھیں گے کہ آخر کیا وجہ تھی کہ تاریخ کی ایک عظیم طاقت کا قائد اپنے ہی اتحادیوں کے لیے ناقابلِ قبول اور نظرانداز ہونے لگا۔ اس سوال کا جواب صرف پالیسی اختلافات میں نہیں بلکہ اُن پالیسیوں کے اندازِ تشکیل اور نفاذ میں پوشیدہ ہے۔ یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ بیرونِ ملک طاقت کا اظہار کرنے والا رہنما، اندرونِ خانہ اُن ہی رشتوں کو کمزور کر رہا ہے جن پر اس کی عالمی حیثیت کا انحصار ہے۔
اعزازات کے حصول کی خواہش، خصوصاً امن کا نوبل انعام کی تمنا، اس تضاد کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ امن کبھی خواہشِ شہرت کا ثمر نہیں ہوتا؛ یہ ضبط، تدبر اور عالمی پیچیدگیوں کی گہری فہم کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب ایسے اعزازات کی جستجو جارحانہ رویوں کے ساتھ جڑی نظر آئے تو وہ تحسین کے بجائے شکوک کو جنم دیتی ہے۔ اعلان اور عمل کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ پھر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مزید تشویش ناک وہ وسیع تر عزائم ہیں جو حالیہ بیانات میں جھلکتے ہیں—مثلاً گرین لینڈ کو حاصل کرنے کا تصور، یا غیر ملکی رہنماؤں کو گرفتار کر کے ان کے وسائل پر کنٹرول قائم کرنے کی سوچ۔ ایسے خیالات، خواہ انہیں حکمتِ عملی کا نام دیا جائے، دنیا میں خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے شعور رکھنے والی اقوام کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ یہ ایک ایسے ماضی کی بازگشت محسوس ہوتے ہیں جسے دنیا پیچھے چھوڑ چکی تھی، اور یوں شراکت دار ممالک میں بے چینی کو جنم دیتے ہیں۔
اسی کے ساتھ وہ تنازعات بھی ہیں جنہوں نے قیادت کی ساکھ پر گہرے سائے ڈال دیے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا نام جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں آنا، اور اسرائیل کے حوالے سے بیرونی دباؤ یا بلیک میلنگ کے خدشات—چاہے وہ حقیقت ہوں یا محض تاثر—اتحادیوں کے اعتماد کو مزید متزلزل کرتے ہیں۔ عالمی سیاست میں تاثر اکثر حقیقت جتنا ہی طاقتور ہوتا ہے؛ محض شبہ بھی اعتماد کو کھوکھلا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
اسی دوران اتحادی ممالک کے اندر ایک اخلاقی و سیاسی ازسرِنو جائزہ بھی جاری ہے۔ برطانوی قانون سازوں کی جانب سے وزیرِاعظم کو لکھا گیا وہ خط، جس میں برطانیہ کے قیام اسرائیل میں تاریخی کردار پر ندامت کا اظہار کیا گیا، ایک وسیع تر فکری تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ ایک بیدار ہوتے ہوئے ضمیر کی آواز ہے جو ماضی کی پالیسیوں اور ان کے نتائج پر سوال اٹھا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں ایران کے حوالے سے جارحانہ پالیسیوں نے مغربی اتحادیوں میں مزید بے چینی کو جنم دیا ہے۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اب اختلاف کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ جہاں امریکہ دباؤ اور تصادم کی راہ اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے، وہیں اس کے اہم اتحادی اس طرزِ عمل سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ یہ محض حکمتِ عملی کا فرق نہیں بلکہ اصولی اختلاف ہے—ایک ایسا اختلاف جو اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کرتا ہے۔
امریکہ کے اندرونی حالات بھی اس پیچیدگی کو بڑھا رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ عہدیدار کا استعفیٰ، جس نے ممکنہ فوجی کارروائی کے جواز پر سوال اٹھایا اور کہا کہ کوئی فوری خطرہ موجود نہیں، محض ایک انتظامی واقعہ نہیں بلکہ پالیسی کے اندرونی تضادات کی نشاندہی ہے۔ جب قومی سلامتی کے ذمہ دار افراد خود اختلاف کا اظہار کریں تو اس کی بازگشت سرحدوں سے باہر بھی سنائی دیتی ہے۔
معاشی اثرات بھی کم اہم نہیں۔ تیل کی ترسیل میں ممکنہ خلل اور عالمی منڈیوں پر اس کے اثرات نے اتحادیوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ توانائی کا تحفظ ایک مشترکہ مسئلہ ہے، اور اس کو خطرے میں ڈالنے والی پالیسیاں اتحاد کے بجائے تنہائی کو فروغ دیتی ہیں۔
شاید سب سے نمایاں حقیقت اتحادی ممالک کی فوجی تعاون میں ہچکچاہٹ ہے۔ افواج محض کسی دوسرے کی خواہش پر میدان میں نہیں اتاری جاتیں، جب تک کہ مقصد واضح اور مشترکہ نہ ہو۔ اس تذبذب سے نہ صرف اتحاد کمزور ہوتے ہیں بلکہ امریکی فوج کا حوصلہ بھی متاثر ہوتا ہے، جو اپنے اتحادیوں کی یکجہتی سے طاقت حاصل کرتی ہے۔
آخرکار، یہ لمحہ یکطرفہ پالیسیوں کی حدود کا ایک واضح سبق پیش کرتا ہے۔ طاقت جب شراکت کے بغیر استعمال ہو تو خود اپنی نفی بن جاتی ہے۔ امریکہ اپنی قوت برقرار رکھتا ہے، مگر اس کی تاثیر کا دارومدار اس کے اتحادیوں کے اعتماد پر ہے۔ جب یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو سب سے بڑی طاقت بھی محدود ہو جاتی ہے۔
امریکہ قائم رہے گا، جیسا کہ وہ ماضی میں آزمائشوں سے گزرتا آیا ہے، مگر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کی بحالی ایک طویل اور دشوار سفر ہوگا۔ اس کے لیے اُن اصولوں کی طرف رجوع ناگزیر ہے جنہوں نے کبھی اسے عظمت بخشی تھی: تسلسل، اخلاقی وضاحت، بین الاقوامی قوانین کا احترام، اور اتحادوں کی قدر۔ جب تک یہ اصول دوبارہ زندہ نہیں ہوتے، یہ تضاد برقرار رہے گا—ایک ایسی قوم جو تنہا نہیں، مگر ایک ایسا رہنما جو تنہائی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔
