تاریخ کے اسباق اور قومی بیداری

تحریر:محمد محسن اقبال
تاریخ کو اکثر اقوام کا آئینہ کہا جاتا ہے۔ اس آئینے میں ماضی کی کامیابیاں اور ناکامیاں، فتوحات اور سانحات، دانش و بصیرت اور لغزش و کوتاہیاں سب محفوظ ہوتی ہیں۔ تاہم اس آئینے کی ہر تصویر یکساں طور پر واضح نہیں ہوتی۔ بعض مناظر وقت کی گرد، تعصبات اور نامکمل فہم کی دھند میں اوجھل ہو جاتے ہیں۔ حقیقت کے اصل چہرے کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس گرد کو احتیاط اور دیانت داری سے صاف کیا جائے اور ماضی کا مطالعہ کھلے ذہن اور بے لاگ نگاہ سے کیا جائے۔ تب کہیں جا کر تاریخ ایک ایسی کھلی کتاب بن جاتی ہے جس کے صفحات میں آنے والی نسلوں کے لیے بیش قیمت اسباق پوشیدہ ہوتے ہیں۔
دنیا کی کوئی قوم کمزوریوں اور غلطیوں سے مبرا نہیں رہی۔ ہر معاشرہ کبھی نہ کبھی ناکامی، غلط فیصلوں اور اندرونی انتشار کے ادوار سے گزرتا ہے۔ زوال اور ترقی کے درمیان اصل فرق اس بات میں مضمر ہوتا ہے کہ کوئی قوم اپنے تلخ تجربات سے کیا سبق حاصل کرتی ہے۔ وہ اقوام جنہوں نے دنیا میں ترقی اور استحکام کی منزلیں طے کیں، اس لیے کامیاب نہ ہوئیں کہ ان سے کبھی غلطی نہیں ہوئی، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنی کوتاہیوں کا ادراک کیا، اپنی سمت درست کی اور اپنے زخموں کو اپنی قوت میں تبدیل کر لیا۔
پاکستان کی تاریخ بھی ایسے بے شمار اسباق سے بھری پڑی ہے۔ ان میں سب سے المناک باب 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہ تھا بلکہ ایک ایسا قومی سانحہ تھا جس نے پوری قوم کی اجتماعی یادداشت پر گہرے نقوش ثبت کر دیے۔ پاکستان کے ایک بازو کا جدا ہو جانا آج بھی اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ داخلی تقسیم اور خارجی مداخلت کس قدر سنگین نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔
یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ تحریکِ پاکستان میں بنگال کے مسلمانوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ ان کی قربانیاں، وابستگی اور حمایت قیامِ پاکستان کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی تھیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے مطالبات سے لے کر 1947ء میں آزادی کے حصول تک مشرقی بنگال کے عوام اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ انہیں ایک مشترکہ نصب العین، مشترکہ قربانیوں اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن کے خواب نے ایک لڑی میں پرو رکھا تھا۔
تاہم جغرافیہ نے نو زائیدہ مملکت کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا۔ پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصوں کے درمیان بھارت واقع تھا، جس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ابتدا ہی سے کشیدہ اور مخاصمانہ رہے۔ یہ جغرافیائی حقیقت بیرونی مداخلت کے لیے سازگار مواقع فراہم کرتی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ سیاسی چالوں، پروپیگنڈے اور علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی کے ذریعے اختلافات کو گہرا کرنے اور غلط فہمیوں کو ناقابلِ مصالحت خلیج میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ مکتی باہنی کا ظہور اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات بالآخر پاکستان کے سانحۂ سقوط پر منتج ہوئے۔
مگر تاریخ ہم سے صرف حب الوطنی ہی نہیں بلکہ دیانت داری کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اگرچہ بیرونی مداخلت نے اس المیے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن ان داخلی کمزوریوں کا جائزہ لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے جنہوں نے ایسی مداخلت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا۔ قومیں صرف اپنے دشمنوں کی وجہ سے کمزور نہیں ہوتیں بلکہ اکثر اوقات وہ پہلے اپنی داخلی کمزوریوں، باہمی اعتماد کے فقدان اور مؤثر طرزِ حکمرانی کی کمی کے باعث کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اسی لیے 1971ء کا سانحہ صرف بیرونی سازشوں کی داستان نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی اہمیت کا بھی ایک دائمی سبق ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ کئی پوشیدہ حقائق منظرِ عام پر آئے۔ خطے کے متعدد سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور مبصرین نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بیرونی کردار کے مختلف پہلوؤں کو تسلیم کیا۔ بعد ازاں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے بعض بیانات نے بھی اس تاثر کو تقویت دی کہ بھارت نے پاکستان کو کمزور اور تقسیم کرنے کے لیے فعال حکمتِ عملی اختیار کی تھی۔ ان اعترافات نے ان شبہات کی مزید توثیق کی جنہیں بہت سے لوگ عرصۂ دراز سے درست سمجھتے رہے تھے۔
تاہم یہ داستان 1971ء پر ختم نہیں ہوئی۔ پاکستان میں ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں بعد کی دہائیوں میں بھی مختلف صورتوں میں جاری رہیں۔ پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی طویل عرصے تک بدامنی اور تشدد کی لپیٹ میں رہی، جس کے اثرات قومی استحکام اور اقتصادی ترقی پر مرتب ہوئے۔ اسی طرح بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں پیدا ہونے والی بے چینی کے حوالے سے بھی وقتاً فوقتاً خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستانی حکام متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ انہیں ایسے شواہد حاصل ہوئے ہیں جو بعض معاند بیرونی عناصر کے کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔
علاقائی حالات میں آنے والی تبدیلیوں نے ان چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ہمسایہ افغانستان میں رونما ہونے والے حالات نے بھی کئی مرتبہ سلامتی کے منظرنامے کو نئی جہتیں عطا کیں اور ان قوتوں کے لیے مواقع پیدا کیے جو پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتی تھیں۔ خواہ یہ مداخلت براہِ راست ہو، پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے ہو یا اطلاعاتی جنگ کی شکل میں، مقصد ایک ہی رہا: داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا۔
آج کے دور میں مقابلے کے نئے میدان وجود میں آ چکے ہیں۔ حساس علاقوں میں رائے عامہ پر اثر انداز ہونے اور ان طبقات کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں جو ماضی میں پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری اور وابستگی کا بھرپور اظہار کرتے رہے ہیں۔ اطلاعات کے اس برق رفتار دور میں جنگ صرف سرحدوں اور افواج تک محدود نہیں رہی۔ بیانیے، تصورات اور گمراہ کن معلومات اب ایسے ہتھیار بن چکے ہیں جو معاشروں کی سوچ اور رویوں کو متاثر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاریخ کا سبق نہایت واضح ہے۔ قومی سلامتی صرف عسکری قوت سے محفوظ نہیں ہوتی بلکہ اس کی حقیقی بنیاد اتحاد، شعور اور استقامت پر استوار ہوتی ہے۔ ایک بیدار قوم وہ ہوتی ہے جو اپنی داخلی ہم آہنگی کی قدر کو پہچانتی ہے اور اختلاف، فتنہ، گمراہ کن اطلاعات اور بیرونی چالبازیوں کا شکار ہونے سے انکار کر دیتی ہے۔ کسی بھی بیرونی سازش کے خلاف سب سے مضبوط حصار ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد اور وابستگی کا وہ رشتہ ہے جو وقت کے ہر امتحان میں ثابت قدم رہے۔
تاریخ کا مقصد محض ماضی کے واقعات کو دہرانا نہیں ہوتا۔ اس کا اصل فریضہ مستقبل کی راہوں کو روشن کرنا ہے۔ ماضی کے سانحات کو دائمی تلخی کا سبب بنانے کے بجائے انہیں اتحاد، بصیرت اور بیداری کی اہمیت کی یاد دہانی بنانا چاہیے۔ اگر پاکستان کو ایک مستحکم، خوشحال اور باوقار مستقبل کی جانب اعتماد کے ساتھ بڑھنا ہے تو اسے اپنی تاریخ سے مسلسل سبق سیکھنا ہوگا، اپنے اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا اور قومی یکجہتی کی اس روح کو زندہ رکھنا ہوگا جس نے اسے بے شمار مشکلات کے باوجود قائم و دائم رکھا ہے۔ تاریخ کا آئینہ ہمیں صرف یہ نہیں دکھاتا کہ ہم نے کیا کھویا، بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ آئندہ ایسے نقصانات سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=10384
https://timelinenews.com.pk/the-swift-passage-of-time/
