سندھ طاس معاہدے
اسلام آباد: 10 جون 2026
انڈیا اسٹڈی سینٹر، انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد نے ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا جس کا عنوان تھا "پانی کو ہتھیار بنانا: سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنا”۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق وفاقی وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور جناب احمر بلال صوفی تھے۔ دیگر مقررین میں ڈاکٹر صوفیہ خانم، ریسرچ ڈائریکٹر، بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز، ڈھاکہ؛ سفیر شفقت کاکاخیل؛ ڈاکٹر ژانگ جیا ڈونگ، ڈائریکٹر، سینٹر فار ساؤتھ ایشین اسٹڈیز اینڈ ڈین، انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی، فودان یونیورسٹی، شنگھائی، چین؛ اور مسٹر علی توقیر شیخ، سینئر کنسلٹنٹ، ایشین ڈویلپمنٹ بینک شامل تھے۔
خطاب کرتے ہوئے جناب احمر بلال صوفی نے کہا کہ آرٹیکل 12(4) کے تحت سندھ طاس معاہدہ صرف دونوں فریقین کے باہمی اتفاق سے ہی ترمیم کیا جا سکتا ہے اور اسے یکطرفہ طور پر منسوخ یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالتے ہی معاہدے کے مستقبل پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی اندرونی سیاست اور وعدے ہی مودی حکومت کے اس رویے کے محرک تھے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بغیر کسی تحقیقات کے معاہدے کو ‘معطل’ قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت پہلے سے ہی اس موقع کی تلاش میں تھا۔ جناب صوفی نے اس حقیقت پر بھی زور دیا کہ بنگلہ دیش جیسے زیریں ملک بھی بھارت کے اس رویے سے براہِ راست متاثر ہوں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بھارت کا پانی کو ہتھیار بنانا اس کی اس وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ پورے خطے پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔
اپنے خیرمقدمی کلمات میں سفیر خالد محمود، چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس آئی نے کہا کہ جنوبی ایشیا پانی کی قلت سے دوچار خطوں میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود بھارت نے تعاون کے بجائے پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ پانی کو پل بننا چاہیے تھا، مگر اسے خطرے میں بدل دیا گیا۔ سفیر محمود نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ کوئی سیاسی رعایات نہیں ہے جسے مرضی سے معطل کیا جا سکے۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو قانوناً پابند ہے اور اس میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان کا مؤقف اصولی اور مستقل ہے۔ پاکستان اس معاہدے اور امن و قانون کی حکمرانی پر قائم ہے۔ پاکستان توقع کرتا ہے کہ بھارت بھی فوری طور پر اپنے یکطرفہ موقف سے دستبردار ہو کر معاہدے کی مکمل بحالی کرے۔ ساتھ ہی پاکستان اپنے قانونی حقوق اور معاہدے کے تحت حاصل شدہ استحقاق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا۔
ابتدائی کلمات میں ڈاکٹر خرم عباس، ڈائریکٹر انڈیا اسٹڈی سینٹر نے کہا کہ اپریل 2025 سے قبل سندھ طاس معاہدے کو تاریخ کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ مگر گزشتہ سال کے واقعات نے اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا معاہدے کو "معطل” قرار دینا علاقائی استحکام، بین الاقوامی قانون اور آبی حکمرانی کے مستقبل کے لیے تشویشناک ہے۔ انہوں نے بھارت کے متنازعہ منصوبوں کی تکمیل کی رفتار پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر صوفیہ خانم نے کہا کہ بنگلہ دیش جیسے زیریں ملک بھارت کے اس رویے سے براہِ راست متاثر ہیں۔ دریاؤں پر بھارت کا کنٹرول نہ صرف بنگلہ دیش کی زراعت بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ آبی سفارت کاری کو فروغ دے اور زیریں ممالک کے حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی حل تلاش کرے۔
سفیر شفقت کاکاخیل نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر تعاون کی ایک نادر مثال ہے جو 9 سال کی مذاکرات کے بعد طے پایا۔ اس معاہدے کی روح دشمنی کے بجائے اشتراک پر مبنی تھی۔ مگر بھارت کی موجودہ پالیسی اس روح کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
ڈاکٹر ژانگ جیا ڈونگ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ علاقائی امن و استحکام کی ضمانت ہے۔ بھارت کا یکطرفہ اقدام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اس معاہدے کے تحفظ اور آبی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
مسٹر علی توقیر شیخ نے کہا کہ پانی کو ہتھیار بنانا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر بھارت کے اس اقدام کو چیلنج کرے اور زیریں ممالک کے ساتھ مل کر ایک متحدہ مؤقف اپنائے۔
آخر میں شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ علاقائی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ معاہدے کی مکمل بحالی کرے اور پانی کو ہتھیار بنانے کی پالیسی ترک کرے۔
Table of Contents
https://timelinenews.com.pk/ignite-mobilink-bank-partner-establish-nic/
https://dailytimeline.pk/?p=10380
