امریکہ ایران معاہدہ

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
امریکہ اور ایران کے درمیان کئی مہینوں سے جاری کشیدگی، سفارتی تناؤ اور فوجی محاذ آرائی کے بعد ایک ایسے ابتدائی معاہدے کی خبر سامنے آئی ہے جس نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ بعض حلقے اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں، لیکن بہت سے ماہرین اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق خطے کی پیچیدہ سیاسی حقیقتوں کو دیکھتے ہوئے صرف ایک معاہدے سے دیرپا استحکام کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں اور ہر کوئی اس کے حقیقی نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو اپنی خارجہ پالیسی کی ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک مثبت پیغام ملے گا۔ ان کا مؤقف ہے کہ جنگ اور عدم استحکام کے ماحول کے خاتمے سے بین الاقوامی تجارت کو فروغ ملے گا اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوگا۔ امریکی انتظامیہ اس معاہدے کو اپنی سفارتی کوششوں کا اہم نتیجہ قرار دے رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے اس معاہدے کو مکمل امن معاہدہ قرار دینے کے بجائے ایک ابتدائی سفارتی فریم ورک قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ کئی بنیادی اور حساس معاملات ابھی زیرِ بحث ہیں جن پر مزید مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر مستقبل کے مذاکرات احترام، برابری اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں تو مستقل امن کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ عمل دوبارہ تعطل کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔
ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے آئندہ ساٹھ دن کے مذاکرات کو اس عمل کا اہم ترین مرحلہ قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کا جوہری پروگرام توانائی، سائنسی تحقیق اور دیگر پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ مغربی ممالک اس حوالے سے مزید شفافیت اور نگرانی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ یہی مسئلہ گزشتہ دو دہائیوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعات کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک چاہتے ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور ایسے اقدامات کرے جن سے عالمی برادری کے تحفظات دور ہوں۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے واضح اور قابلِ اعتماد ضمانتیں ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے مذاکرات کو اس پورے عمل کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کن مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔
اس معاہدے کا ایک اہم اور متنازع پہلو یہ ہے کہ اسرائیل اس کا براہِ راست حصہ نہیں ہے۔ اسرائیلی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں میں مکمل خودمختاری برقرار رکھے گی اور کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گی جو اس کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرے۔ اسرائیلی قیادت کا مؤقف ہے کہ خطے میں بعض خطرات اب بھی موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
لبنان کے حوالے سے بھی صورتحال خاصی پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان سے فوری انخلا کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدی علاقوں میں مکمل استحکام اور سلامتی کے بغیر کسی بھی قسم کا انخلا قبل از وقت ہوگا۔ اس مؤقف نے معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے اور علاقائی سیاست کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
اسی وجہ سے متعدد بین الاقوامی مبصرین اس پیش رفت کو مکمل امن کے بجائے ایک عارضی جنگ بندی یا سفارتی وقفہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بنیادی تنازعات کو مستقل بنیادوں پر حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہونے کے امکانات موجود رہیں گے۔ تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کئی معاہدے اس وقت ناکام ہوئے جب اصل مسائل کو نظر انداز کیا گیا۔
اس پورے تنازع کے دوران لبنان ان ممالک میں شامل رہا جنہوں نے سب سے زیادہ نقصان برداشت کیا۔ کئی شہروں اور دیہاتوں میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں اور ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔
لبنان کی پہلے ہی کمزور معیشت اس بحران کے باعث مزید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی، سرمایہ کاری رک گئی اور بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا۔ ایک ایسے ملک کے لیے جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا تھا، یہ جنگ ایک نئے معاشی بوجھ کی صورت میں سامنے آئی۔
سیاحت، جو لبنان کی معیشت کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے، اس تنازع کے باعث تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی۔ غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی جبکہ مقامی کاروبار شدید مالی مشکلات سے دوچار ہو گئے۔ ماہرین کے مطابق جنگ کے اثرات ختم ہونے کے بعد بھی اس شعبے کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
تعلیمی نظام بھی اس بحران سے محفوظ نہ رہ سکا۔ متعدد اسکول اور جامعات بند ہوئیں جبکہ ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی۔ بہت سے علاقوں میں والدین اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے ہچکچاتے رہے کیونکہ سکیورٹی صورتحال غیر یقینی تھی۔
صحت کا شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار رہا۔ کئی اسپتال زخمیوں کے بوجھ تلے دب گئے جبکہ طبی سہولیات اور ادویات کی قلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے نے انتہائی مشکل حالات میں خدمات انجام دیں اور انسانی جانوں کو بچانے کی بھرپور کوشش کی۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی اس جنگ کے دوران ہونے والے جانی اور مالی نقصانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ تنازعات کا سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے جو نہ تو جنگ کے فیصلے کرتے ہیں اور نہ ہی اس سے کوئی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
اس پورے سفارتی عمل میں پاکستان کے کردار کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ مختلف سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان نے پسِ پردہ رابطوں، اعتماد سازی اور فریقین کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی کوششیں بعد ازاں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوئیں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی طویل عرصے سے مذاکرات، امن اور علاقائی استحکام کے اصولوں پر زور دیتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی اور جنگ کے بجائے بات چیت کی حمایت کی۔
بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر پاکستان واقعی اس عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوا ہے تو یہ اس کی سفارتی کامیابیوں میں ایک اہم اضافہ شمار ہوگا۔ اس سے نہ صرف پاکستان کا بین الاقوامی تشخص بہتر ہوگا بلکہ خطے میں اس کی اہمیت بھی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد عالمی منڈیوں میں بھی مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ سرمایہ کاروں نے امید ظاہر کی کہ اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگا اور عالمی تجارت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ تاہم غیر یقینی صورتحال اب بھی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کر رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں، کیونکہ دنیا کے توانائی کے ایک بڑے حصے کی ترسیل اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ یورپ، ایشیا اور امریکہ سمیت پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امن معاہدوں کی اصل کامیابی دستخطوں سے نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد سے ثابت ہوتی ہے۔ اگر فریقین اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے پورا کریں تو یہ معاہدہ خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز بن سکتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان عشروں پر محیط بداعتمادی ایک ایسی حقیقت ہے جسے مختصر مدت میں ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کو نہ صرف سیاسی بلکہ سفارتی اور عوامی سطح پر بھی اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ مستقبل میں تنازعات کے امکانات کم ہو سکیں۔
علاقائی طاقتوں کا کردار بھی اس پورے عمل میں نہایت اہم ہوگا۔ اگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اس پیش رفت کو مضبوط بنانے میں تعاون کرتے ہیں تو امن کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، لیکن اگر اختلافات برقرار رہے تو صورتحال دوبارہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی برادری اس معاہدے کو امید اور احتیاط دونوں زاویوں سے دیکھ رہی ہے۔ امید اس لیے کہ شاید ایک طویل اور خطرناک تنازع اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے، اور احتیاط اس لیے کہ کئی بنیادی مسائل اب بھی مکمل طور پر حل نہیں ہوئے۔
لبنان، غزہ اور دیگر متاثرہ علاقوں کے عوام کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ یہ سفارتی کوششیں صرف سیاسی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ حقیقی امن، تعمیرِ نو، اقتصادی بحالی اور انسانی زندگی کے تحفظ کا ذریعہ بنیں۔ جنگوں کی تباہ کاریوں سے گزرنے والے عوام اب مزید خونریزی نہیں بلکہ استحکام اور خوشحالی کے متلاشی ہیں۔
یہ معاہدہ بلاشبہ ایک اہم سفارتی پیش رفت تصور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ہوگا۔ اگر فریقین اپنے وعدوں پر قائم رہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے ایک نئے باب کا آغاز بن سکتا ہے، بصورت دیگر یہ تاریخ کے کئی نامکمل معاہدوں کی طرح ایک اور عارضی وقفہ ثابت ہو سکتا ہے۔
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=10429
https://dailytimeline.pk/?p=10398
