چراغِ امن

تحریر:محمد محسن اقبال
بین الاقوامی تعلقات کی وسیع و عریض بساط پر، جہاں امن کے اعزازات عموماً کسی فردِ واحد یا کسی عالمی ادارے کے حصے میں آتے رہے ہیں، وہاں اب تاریخ نے ایک غیرمعمولی باب ایک پوری قوم کے نام رقم کر دیا ہے۔ جمعرات کے روز پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کرکے پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک قابلِ اعتماد ثالث کی حیثیت سے دنیا کے سامنے متعارف کرایا۔ اس لمحۂ تاریخی میں گویا تاریخ نے اپنا رخ موڑ لیا اور پاکستان کو وہ اعزاز عطا کیا جو کسی بھی بین الاقوامی انعام سے کہیں بڑھ کر ہے؛ یعنی بڑی طاقتوں کے درمیان امن کے سفیر اور صلح کار کا مقام۔
جب یہ تنازعہ بھڑکا تو دنیا نے دیکھا کہ صدیوں کی بدگمانیاں اور حالیہ سیاسی کشیدگیاں مل کر ایک ایسی آگ کو ہوا دے رہی ہیں جو پورے خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔ آبنائے ہرمز کے پانی بھی گویا اضطراب کی لہروں سے لرز رہے تھے اور اندیشہ تھا کہ یہ چنگاریاں عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن تک پھیل جائیں گی۔ بہت سے ممالک نے خاموش تماشائی بننے یا محتاط فاصلے پر رہنے کو ترجیح دی، مگر پاکستان نے ایک جرات مندانہ راستہ اختیار کیا۔ اندھیروں میں روشن کیے گئے چراغ کی مانند وہ آگے بڑھا اور خطرات کے اس بارود خانے کے عین وسط میں امن کا پیغام لے کر پہنچ گیا۔
یہ کردار صرف سفارت کاری کا نہیں بلکہ غیرمعمولی جرات اور اعتماد کا متقاضی تھا۔ وہی اعتماد جس کا مظاہرہ پاکستان نے مئی 2025 میں اپنی خودمختاری اور وقار کے دفاع کے لیے کیا تھا، اب امن کے قیام کی خدمت میں بروئے کار آیا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ طاقت کا اصل مقصد تباہی نہیں بلکہ استحکام اور امن کا تحفظ ہے۔
پاکستان کی نیک نیتی اور اس کی قیادت کی مسلسل کاوشیں بالآخر بارآور ثابت ہوئیں۔ برصغیر کی قدیم پنچایتی روایت سے لے کر جدید سفارت کاری تک ایک اصول ہمیشہ مسلم رہا ہے کہ ثالثی صرف اسی شخص یا ملک کو نصیب ہوتی ہے جس پر فریقین یکساں اعتماد کرتے ہوں۔ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، علاقائی معاملات کی گہری سمجھ بوجھ اور اپنی قیادت کی سنجیدگی و دیانت کے باعث اس اعتماد پر پورا اترا۔ تحمل، بصیرت اور مستقل مزاجی کے ساتھ پاکستانی سفارت کاروں نے ان شعلوں کو بجھانے کی کوشش کی جنہیں جنگی ماحول نے بھڑکا دیا تھا۔ نتیجتاً ایک ایسا بحران ٹل گیا جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔ یوں پاکستان کے کردار نے دنیا کو ایک ممکنہ آفت سے محفوظ رکھنے میں بنیادی حصہ ڈالا۔
اس کامیابی کی سب سے نمایاں علامت وہ تاریخی دستاویز ہے جس پر امریکی اور ایرانی صدور کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وزیرِ اعظم نے بطور ثالث دستخط ثبت کیے۔ اس دستاویز پر پاکستانی وزیرِ اعظم کے دستخط درحقیقت پوری قوم کے لیے ایک عظیم اعزاز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض اوقات تاریخ کے اوراق پر ثبت ہونے والی ایک خاموش تحریر، بڑے سے بڑے اعزاز سے زیادہ وقعت رکھتی ہے، اور یہ لمحہ بھی انہی یادگار لمحوں میں شمار ہوگا۔
پاکستان نے جب امن کا یہ چراغ روشن کیا تو اس کی روشنی نے پورے خطے میں پھیلتے اندھیروں کو کم کرنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف خلیجی پانیوں میں کشیدگی کم ہوئی بلکہ عالمی تجارت کی شہ رگ سمجھی جانے والی تیل کی ترسیل کے راستے بھی دوبارہ محفوظ ہوئے۔ تیل کی فراہمی بحال ہونے سے عالمی معیشت کو نئی زندگی ملے گی، افراطِ زر کے دباؤ میں کمی آئے گی اور ان ممالک کو بھی ریلیف حاصل ہوگا جو اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہے تھے۔ یوں خلیج میں جاری بے چینی کے خاتمے کے ساتھ استحکام اور اعتماد کی نئی فضا جنم لے گی۔
اس پیش رفت نے مسلم دنیا کے لیے بھی امید کے نئے دریچے کھول دیے ہیں۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر امتِ مسلمہ کو اتحاد اور باہمی تعاون کا موقع فراہم کیا ہے۔ ایک ایسی امت جو مختلف سیاسی اور جغرافیائی تقسیموں کے باعث بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے، اب مشترکہ مفادات اور مشترکہ مقاصد کے تحت قریب آنے کا ایک نیا موقع پا سکتی ہے۔ جب برادر اسلامی ممالک یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو ان کی آواز زیادہ مؤثر اور ان کا کردار زیادہ باوقار ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی اس تاریخی کامیابی کے ثمرات دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔ خطے اور دنیا کے امن کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے بھی کھلنے کی توقع ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کا وہ منصوبہ جو برسوں سے تعطل کا شکار تھا، اب تکمیل کے قریب پہنچ سکتا ہے۔ اس سے توانائی کے شعبے میں استحکام آئے گا اور لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ اسی طرح ایران کے ساتھ توانائی اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کے امکانات روشن ہوں گے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھولےگا۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ اس خطے کے عوام ایک دوسرے کو سرحدوں میں مقید اجنبیوں کے بجائے ایک بڑے خاندان کے افراد کے طور پر دیکھنا شروع کر سکتے ہیں۔ مشترکہ عقیدہ، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ جغرافیہ ان قوموں کو قریب لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں مسلم ممالک دنیا میں اپنا کردار محض تماشائی یا محتاج کے طور پر نہیں بلکہ اپنی تقدیر کے معمار کے طور پر ادا کر سکتے ہیں۔
بلاشبہ یہ کامیابی بغیر خطرات اور قربانیوں کے حاصل نہیں ہوئی۔ خلیجی کشیدگی کے دہکتے الاؤ میں قدم رکھنا بصیرت، حوصلے اور ایثار کا تقاضا کرتا تھا۔ مگر پاکستان کی قیادت نے خطرات کے مقابلے میں امن کے انعام کو زیادہ قیمتی جانا اور ایک مشکل مگر باوقار راستہ اختیار کیا۔ آج جو چراغ روشن ہوا ہے، وہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ انسانیت کی اس دائمی آرزو کی علامت ہے جو اختلافات کے درمیان ہم آہنگی اور تصادم کے درمیان امن کی متلاشی رہتی ہے۔
آج کی شورش زدہ دنیا میں پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ جب جرات کے ساتھ دانائی اور نیک نیتی بھی شامل ہو جائے تو تاریخ کا دھارا بدلا جا سکتا ہے۔ اپنے اس کردار کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف سفارت کاری کے ریکارڈ میں بلکہ تاریخ کے روشن اور باوقار اوراق میں بھی اپنا نام درج کرا لیا ہے۔ امن کا یہ چراغ روشن ہو چکا ہے؛ دعا ہے کہ اس کی روشنی دیر تک قائم رہے اور آنے والی نسلوں کے لیے امید، استحکام اور باہمی احترام کا پیامبر بنے۔
