پاکستان کی کاوشیں

تحریر۔کبیرحُسین
اورپھرجب پوری دُنیاامن بحالی کیلئے پاکستان پرنگاہیں مرکوزکئے ہوئے تھی،اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے بھی پاکستان کی کاوشوں پرپُرامیدتھے کہ دُنیاکے امن کیلئے یقیناپاکستان قائدانہ کرداراداکرتے ہوئے ضرورحل نکالے گا۔آخر کارپاکستان کی طویل کوششوں اورثالثی کی بدولت گزشتہ روز امریکہ اور ایران دونوں نے امن معاہدے پرکام شروع کردیاہے۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ اورایرانی صدرمسعودپرشکیان نے دوطرفہ جنگ بندی اور معاہدے کی تصدیق کردی ہے۔جنگ بندی معاہدے پر صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دستخط کر دیئے ہیں جبکہ ایران کی جانب سے بھی کام شروع کردیاگیاہے۔صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے معاہدے پر ذاتی طور پر دستخط کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ وہ اس عمل کو کامیابی کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی وابستگی اور عزم کا واضح اظہار کرسکیں۔اِسی طرح ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہاہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر آج جمعۃ المبارک کو جنیوا میں دستخط کیے جائیں۔اِسی طرح ایران کے بیرون ملک منجمد اثاثوں کی بحالی و واپسی اور جنگی نقصانات کے معاوضے کے حوالے سے بھی کام جاری ہے۔معاہدے میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان سے متعلق بھی نکات شامل ہیں اور لبنان کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام یقینی بنایا جائے گا۔اِسی طرح آبنائے ہرمزکوبھی آج سے مکمل طورپرکھول دیاجائے گا۔

اِس حوالے سے گزشتہ روزوزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمدشہبازشریف نے بھی قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ تین ماہ سولہ دن کی بے پناہ آزمائشوں کے بعد امریکا اور ایران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔پاکستان کیلئے انتہائی قابل فخر بات ہے کہ جنیوامیں ہونیوالے معاہدے کی باضابطہ تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔وزیر اعظم محمدشہبازشریف نے کہا کہ جنگ کے بڑھتے شعلوں کو روک کر امن کے قیام کے لئے ہماری مخلصانہ کاوشوں کو اللہ تعالی نے اپنی کمال مہربانی سے پذیرائی بخشی اور دُنیا میں پاکستان کو جو عزت اور وقار عطا فرمایا ہے، قومیں صدیوں اُس کی متلاشی رہتی ہیں۔ آج اللہ تعالیٰ نے پاکستان کے24 کروڑ عوام کو جو عزت عطا کی ہے اسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے پاکستانی قوم سمیت پوری عالمی برادری کو اس کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوان زیریں کے تمام اراکین(حکومتی،اپوزیشن) کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں، اپنے لیڈر محمد نواز شریف کا بھی شکر گزار ہوں جن کی رہنمائی مجھے ہر وقت میسر ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، پارٹی سربراہان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں جن کی بھر معاونت حاصل رہی۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ امن اور مکالمے کی طاقت کی فتح ہے،یہ جنگ کی تباہ کاریوں کے مقابلے میں سفارتکاری کی کامیابی ہے۔وزیر اعظم محمدشہبازشریف نے امریکی صدردونلڈ ٹرمپ،ایران کے سپریم لیڈرسید مجتبیٰ خامنائی، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اور امن کے اس عمل میں شریک ان کی ٹیمز کے تمام ارکان کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی، جنہوں نے نہایت مشکل حالات میں تدبر، دانش اور صبر کا ہاتھ نہ چھوڑا جس کے نتیجے میں آج یہ عظیم دن نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو نصیب ہواہے۔
آج پاکستان نے دُنیاکوتیسری بڑی عالمی جنگ سے بچالیاہے جس طرح پوری دُنیاامن کے حوالے سے مشکلات کاشکار تھی،یورپ،چین،روس،عرب امارات،سعودی عرب،وسط ایشیاء نہ صرف اِس جنگ سے متاثر تھے بلکہ اِس جنگ نے دُنیاکی بڑی بڑی معیشتوں کوبھی جھنجھوڑکے رکھ دیاتھا۔خیر۔یہ دُنیاکی تاریخ میں ایک مثال ہے کہ جہاں پاکستان نے جنگ بندی اورامن کے حوالے سے پوری دُنیاکولیڈکیاوہیں معیشت کے حوالے سے بھی حکومت پاکستان نے بہترین اقداما ت کئے جن کی بدولت پاکستان میں تیل کی قیمتوں سمیت تمام حالات معمول پررہے۔آج یورپ،کینیڈا،آسٹریلیا،وسط ایشیاء،عرب امارات،چین،تُرکیہ سمیت پوری دُنیا کے ایوانوں سے پاکستان زندہ بادکے نعرے بلندہورہے ہیں۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ آج پاکستان جس مقام پراورجس تندوہی سے ترقی کی سیڑھیاں عبورکررہاہے اِس میں وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہبازشریف،فیلڈمارشل،آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیر کی بھرپورکاوشیں شامل ہیں۔ جنیوامیں ہونیوالا معاہدہ دُنیاکی تاریخ میں سُنہری حروف سے لکھاجائے گااورپاکستان کانام اِنشااللہ تاقیامت اِسی طرح دمکتارہے گا۔
