
تحریر:محمد محسن اقبال
حالیہ دنوں میں بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی نے پنجاب کی سرزمین کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ طوفانی سیلاب اپنے ساتھ ایسی تباہی لایا ہے کہ جسے الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں، اور اپنے پیچھے رنج و الم کی ایسی داستانیں چھوڑ گئیں جو سالوں یاد رکھی جائیں گی۔ یہ ظالم ریلے نہ صرف گھروں، کھیتوں، کھلیانوں اور مویشیوں کو بہا لےگئے بلکہ امیدوں، خوابوں اور یادوں کو بھی ڈبو گئے۔ جہاں کبھی سونے جیسے گندم کے خوشے ہوا کے جھونکوں کے ساتھ جھومتے تھے، وہاں اب کیچڑ اور ملبے کا صحرا پھیلا ہوا ہے۔ جہاں کبھی شام کے وقت خاندان بزرگ برگد کے درختوں کے سائے تلے اکٹھے ہوتے تھے، وہاں اب سنّاٹا ہے—جو صرف اجڑے مکینوں کی آہوں اور چیخوں سے ٹوٹتا ہے۔
یہ مادی نقصان جتنا بھی بڑا ہو، انسانوں کے چہروں پر لکھے دکھ اور کرب کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ لرزتے ہاتھوں والے باپ اپنی ٹوٹی چھتوں کے ملبے میں ماضی کی کوئی یاد ڈھونڈتے ہیں۔ مائیں بھوکے بچوں کو گود میں لے کر اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔ بچوں کی ہنسی اب رونے میں بدل گئی ہے اور وہ بزرگ، جو کبھی حوصلے کی کہانیاں سناتے تھے، اب حیرانی اور غم کی دھند میں کھوئے افق کو تکتے بیٹھے ہیں۔
قرآن مجید ان لمحات میں ہمیں یاد دہانی کراتا ہے
"اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور خوشخبری ہے صبر کرنے والوں کو، جو جب ان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ کے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔” (سورۃ البقرۃ: 155-156)
یہ آیات صرف الفاظ نہیں بلکہ اندھیروں میں چراغ ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ مصیبتیں سزا نہیں بلکہ آزمائش ہیں، جن سے ایمان اور کردار کی کسوٹی لگتی ہے۔
نظر آنے والی تباہی کے پیچھے دلوں میں برپا ہونے والا طوفان کہیں زیادہ شدید ہے۔ جو بچ گئے ہیں ان پر نفسیاتی زخموں کی پرچھائیں چھا گئی ہے۔ ایک بچہ، جس نے اپنی کتابیں پانی میں بہتے دیکھیں، دوبارہ خواب دیکھنے میں مشکل محسوس کرے گا۔ وہ ماں، جس نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو دفن کیا، اپنی باقی زندگی اس خلا کے ساتھ گزارے گی۔ وہ کسان، جس کی فصل برباد ہو گئی، ہر صبح یہ سوچ کر کرب میں مبتلا ہو گا کہ اپنے گھر والوں کا پیٹ کیسے بھرے۔ لیکن انہی گہرے زخموں میں ہمارا ایمان تسلی کا مرہم پیش کرتا ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا
"کسی مسلمان کو کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ اس کے سبب اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کانٹا بھی چبھ جائے” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔
پھر سوچنے کی بات ہے کہ جب سیلاب جیسی آفت انسان کی زندگی اجاڑ دے تو اس پر صبر کرنا اللہ کے قریب ہونے کا کتنا بڑا وسیلہ ہے۔
معاشی اعتبار سے بھی یہ سانحہ نہایت سنگین نتائج رکھتا ہے۔ پنجاب، جو ملک کی اناج گاہ ہے، پانی میں ڈوبا پڑا ہے۔ کھیت اجڑ گئے، گودام خالی ہو گئے۔ مویشی بہہ جانے سے خوراک اور روزگار کا اہم ذریعہ ختم ہو گیا۔ کاروبار اور صنعتیں سیلاب میں ڈوب گئیں۔ کارخانوں کی رونق ماند پڑ گئی۔ پاکستان کی پہلے ہی ناتواں معیشت اب ایک اور بھاری بوجھ تلے دبی دکھائی دیتی ہے۔اس سے مہنگائی بڑھے گی اور غریب عوام مزید کچلے جائیں گے۔ ایسے میں سب سے زیادہ ضرورت اتحاد اور ہمدردی کی ہے۔ کوئی فرد، کوئی صوبہ، کوئی ادارہ تنہا اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکتا۔ صرف اجتماعی عزم اور قربانی ہی پاکستان کو دوبارہ کھڑا کر سکتی ہے۔
تاہم ہر آفت اپنے اندر ایک پیغام بھی رکھتی ہے۔ یہ سیلاب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی طاقت، اس کی دولت، اس کا گھر اور اس کے وسائل سب عارضی ہیں۔ ایک لمحے میں سب چھن سکتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا
"مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اس کا ہر حال اس کے لیے بھلا ہے اور یہ بات کسی اور کے لیے نہیں مگر مومن کے لیے۔ اگر اسے خوشحالی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بھلا ہے، اور اگر اسے مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بھلا ہے۔” (صحیح مسلم)
یہ حدیث اصل استقامت کا نچوڑ ہے: آسائش میں شکر اور آزمائش میں صبر۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہمارا فرض صرف دکھ کا اظہار کر دینا ہے؟ نہیں۔ بحالی کا سفر صرف خیمے اور راشن بانٹنے سے مکمل نہیں ہو گا۔ یہ مرحلہ دوبارہ روزگار کمانے کے مواقع پیدا کرنے، عزتِ نفس بحال کرنے اور امید کو زندہ رکھنے کا ہے۔ جو اپنے گھروں سے محروم ہو گئے انہیں چھت دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ جو اپنی زمینوں سے محروم ہو گئے انہیں بھوک سے بچانا ہمارا فرض ہے۔ اور جو اپنے پیاروں کو کھو بیٹھے، ان کا سہارا بننا ہمارا دینی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
"مومنوں کی مثال آپس کی محبت، رحمت اور شفقت میں ایک جسم کی طرح ہے۔ اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
پاکستان ایک جسم ہے اور پنجاب اس کا دل۔ جب دل زخمی ہو تو سارا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے۔
یہ سیلاب ہماری زمین اور روح دونوں پر زخم لگا گیا ہے۔ لیکن قرآن ہمیں وہ وعدہ یاد دلاتا ہے جو کبھی نہیں بدلتا
بیشک تنگی کے ساتھ آسانی ہے، بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے” (سورۃ الانشراح: 5-6)
ان الفاظ کا تکرار محض اتفاق نہیں بلکہ ایک الٰہی وعدہ ہے کہ ہر مشکل اپنے ساتھ آسانی بھی لاتی ہے۔ پانی اترے گا، کیچڑ سوکھے گا، کھیتوں میں دوبارہ سبزہ اگے گا۔ مگر اصل کامیابی تب ہو گی جب ہم اجتماعی قوت اور ایمان کے ساتھ اٹھیں گے، اور اس آزمائش کو مضبوطی اور استقامت میں بدلیں گے۔
ان شاء اللہ ،یہ سانحہ تاریخ کے اوراق میں صرف تباہی کے طور پر درج نہیں ہو گا بلکہ حوصلے کی داستان کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ایک ایسی قوم کی کہانی کے طور پر جو ٹوٹ کر بھی جھکی نہیں، غم کو ہمت میں بدلا، نقصان کو قوت میں ڈھالا، اور ایمان کے سہارے کھڑی ہوئی۔ کیونکہ اللہ کا ہاتھ ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔بہرحال گھر گر سکتے ہیں اور کھیت مٹ سکتے ہیں، مگر پاکستان کی روح، جو ایمان، صبر اور اتحاد میں پیوستہ ہے، ہمیشہ باقی رہے گی۔ اور انہی کھنڈروں سے یہ گواہی اٹھے گی کہ” بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے، اور ہر آزمائش اپنے ساتھ نئی زندگی کا پیغام لاتی ہے”۔