دوحہ — وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں تین لاکھ سے زائد اوورسیز پاکستانی ورکرز کی نمائندگی کرنے والے 40 رکنی وفد نے اہم ملاقات کی۔
وفد میں انٹرپرینیورز، ہائی پروفیشنلز، Skilled اور Semi Skilled ورکرز کے نمائندے شامل تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ ذوالفقار احمد اور پاکستانی ڈپٹی ہیڈ آف مشن دوحہ بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے وفد سے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور انہیں بتایا کہ پاکستان میں منعقدہ اوورسیز کانفرنس کے دوران پیش کی جانے والی تجاویز پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق اکثر نکات پر عملدرآمد مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی تجاویز پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔
چوہدری سالک حسین نے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو ہدایت کی کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اگر خدانخواستہ کسی اوورسیز پاکستانی کا انتقال ہو جائے تو ان کی فیملی کو انشورنس کلیم کے متعلق مکمل رہنمائی اور مدد فراہم کی جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ورکرز حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور وہ کسی بھی وقت اپنے مسائل کے حل کے لیے براہِ راست ان سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر قطر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو سمندر پار پاکستانیوں کے لیے کیے جانے والے مثالی اقدامات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
شرکائے وفد نے اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن (OPF) میں کی جانے والی اصلاحات اور ایمیگرنٹس کے لیے کیے گئے ٹھوس اور مثبت اقدامات کو بھی سراہا اور وفاقی وزیر کو ان کی ذاتی دلچسپی اور کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
