Al-Shifa Trust Eye Hospital
الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال
تحریر/ نثار چوہدری
گزشتہ دنوں ایک ایسی تقریب میں شرکت کا موقع ملا جس نے یہ حقیقت ایک بار پھر ثابت کر دی کہ اس معاشرے میں ابھی بھی انسانیت زندہ ہے اور خدمت کا جذبہ لوگوں کے دلوں میں پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ یہ الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کی ایک فنڈ ریزنگ تقریب تھی، مگر حقیقت میں یہ انسانیت، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کا ایک خوبصورت مظاہرہ بن گئی۔
تقریب کا مقصد 7 کروڑ روپے کا ہدف حاصل کرنا تھا۔ بظاہر یہ ایک بڑا ہدف تھا، مگر جب نیت خدمت کی ہو اور لوگوں کے دلوں میں درد موجود ہو تو بڑے سے بڑا ہدف بھی چھوٹا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی اس تقریب میں دیکھنے کو ملا۔ حاضرین نے جس خلوص، محبت اور فراخ دلی کے ساتھ عطیات پیش کیے وہ قابلِ دید تھا۔
ایک ایک اعلان کے ساتھ ہال میں موجود لوگوں کے چہروں پر خوشی اور عزم کی جھلک نمایاں ہوتی جا رہی تھی۔ کوئی خاموشی سے اپنا حصہ ڈال رہا تھا، کوئی کھلے دل کے ساتھ دوسروں کو بھی اس کارِ خیر میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر شخص اس نیکی کے سفر کا حصہ بننا چاہتا ہے۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ مقررہ ہدف نہ صرف حاصل ہوا بلکہ اس سے بھی زیادہ فنڈز جمع ہو گئے۔ یہ کامیابی صرف رقم کے اعتبار سے نہیں بلکہ جذبوں کی جیت بھی تھی۔ اس لمحے یہ احساس اور بھی گہرا ہو گیا کہ جب معاشرہ کسی نیک مقصد کے لیے متحد ہو جائے تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔
تقریب کی کامیابی اس بات کی دلیل تھی کہ ہمارے معاشرے میں خیر اور بھلائی کے لیے ہاتھ بڑھانے والے لوگوں کی کمی نہیں۔ ضرورت صرف ایک مخلص آواز اور نیک مقصد کی ہوتی ہے، باقی لوگ خود آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ فنڈ ریزنگ تقریب صرف ایک پروگرام نہیں تھی بلکہ امید کی ایک روشن کرن تھی۔ اس نے یہ پیغام دیا کہ اگر ہم سب مل کر معاشرے کے مسائل کے حل کے لیے قدم بڑھائیں تو بہت سی مشکلات آسان ہو سکتی ہیں۔
بلاشبہ، یہ شام انسانیت، ایثار اور اجتماعی قوت کی ایک یادگار مثال بن کر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ایسے لمحات انسان کو یقین دلاتے ہیں کہ اس دنیا میں ابھی بہت سی روشنیاں باقی ہیں، بس انہیں یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں فلاحی خدمات کی روایت بہت مضبوط ہے۔ اس سرزمین پر ایسے بے شمار افراد گزرے ہیں جنہوں نے اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ انہی باوقار شخصیات میں ایک نمایاں نام ریٹائر جنرل جہانداد خان کا بھی ہے جنہوں نے دکھی انسانیت کی خدمت اور بینائی سے محروم افراد کو روشنی فراہم کرنے کے عظیم مقصد کے تحت الشفاء ٹرسٹ آئی کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک ایسا پودا تھا جو ابتدا میں محدود وسائل کے ساتھ لگایا گیا مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ ایک تناور درخت بن چکا ہے جس کے سائے تلے ہزاروں افراد کو بینائی کی نعمت دوبارہ نصیب ہو رہی ہے۔
انسانی زندگی میں بینائی ایک ایسی نعمت ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اسی وقت ہوتا ہے جب یہ نعمت چھننے لگے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں آنکھوں کی بیماریوں کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بینائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے معیاری طبی سہولیات تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے حالات میں الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال جیسے ادارے امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں۔
الشفاء ٹرسٹ آئی کے قیام کے پیچھے ایک واضح سوچ اور ایک عظیم مقصد کارفرما تھا۔ریٹائر جنرل جہانداد خان اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ آنکھوں کی بیماریوں کے علاج کے لیے جدید طبی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی جہاں نہ صرف جدید مشینری کے ذریعے علاج ممکن ہو بلکہ مستحق مریضوں کو مفت یا کم خرچ علاج بھی فراہم کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ الشفاء ٹرسٹ آئ ہسپتال نے مختصر وقت میں عوام کا اعتماد حاصل کر لیا۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس ادارے کی خدمات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور ہزاروں مریض اس سے مستفید ہونے لگے۔ یہاں موتیا بند، گلوکوما، ریٹینا کے امراض اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے جدید سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ماہر سرجنز اور تربیت یافتہ طبی عملہ مریضوں کی خدمت کو اپنا فرض سمجھ کر انجام دیتا ہے۔ اس ادارے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں کی عزتِ نفس کا بھی مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔
ریٹائر جنرل جہانداد خان کے اس عظیم مشن کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری بعد ازاں ریٹائر جنرل حامد نے سنبھالی اور آج یہ ذمہ داری بااحسن طریقے سے ریٹائر میجر جنرل رحمت خان جو پریذیڈنٹ کے عہدے پر اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں ان کی قیادت میں الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال نے نہ صرف اپنی خدمات کو مزید بہتر بنایا بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں تک آنکھوں کے علاج کی سہولیات پہنچانے کا عزم بھی کیا۔ ریٹائر میجر جنرل رحمت خان کا وژن ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی شہری محض مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے بینائی سے محروم نہ رہے۔
اسی مقصد کے تحت الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کی جانب سے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں فری آئی کیمپس کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں ہزاروں مریضوں کا مفت معائنہ کیا جاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر مریضوں کے آپریشن بھی کیے جاتے ہیں اور انہیں ادویات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کیمپس کے ذریعے ایسے افراد بھی علاج کی سہولت حاصل کر لیتے ہیں جو بڑے شہروں کے ہسپتالوں تک پہنچنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
آنکھوں کے عام امراض کے علاوہ ایک نہایت سنگین بیماری آنکھوں کا کینسر بھی ہے جس کے بارے میں معاشرے میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ آنکھوں کا کینسر اگرچہ نسبتاً کم پایا جاتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اگر اس بیماری کی بروقت تشخیص نہ ہو تو مریض نہ صرف بینائی سے محروم ہو سکتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں یہ مرض جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق آنکھوں کے کینسر کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ بچوں میں پایا جانے والا ریٹینو بلاسٹوما ایک خطرناک بیماری ہے جو عموماً کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری کی ایک نمایاں علامت آنکھ کی پتلی میں سفید چمک کا نظر آنا ہے جو اکثر تصاویر میں فلیش کے دوران واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح بڑوں میں اوکولر میلانوما نامی کینسر بھی پایا جاتا ہے جو آنکھ کے اندرونی حصوں کو متاثر کرتا ہے۔
آنکھوں کے کینسر کی علامات میں بینائی میں اچانک کمی، آنکھ میں درد، سوجن، آنکھ کا سرخ رہنا، یا آنکھ میں سفید دھبے کا نظر آنا شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر ان علامات میں سے کوئی بھی ظاہر ہو تو فوری طور پر ماہر امراض چشم سے رجوع کرنا ضروری ہے کیونکہ اس بیماری کے علاج میں بروقت تشخیص انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ جدید طب میں آنکھوں کے کینسر کے علاج کے کئی مؤثر طریقے موجود ہیں۔ ان میں سرجری، لیزر تھراپی، کیموتھراپی اور ریڈی ایشن تھراپی شامل ہیں۔ اگر بیماری ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو مریض کی بینائی کو محفوظ رکھنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
الشفاء آئی ٹرسٹ ہسپتال اس حوالے سے نہ صرف علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے بلکہ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ادارہ مختلف سیمینارز، آگاہی پروگراموں اور میڈیکل کیمپس کے ذریعے لوگوں کو آنکھوں کی بیماریوں سے بچاؤ اور بروقت علاج کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔ خاص طور پر والدین کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بچوں کی آنکھوں میں کسی بھی غیر معمولی علامت کو نظر انداز نہ کریں۔
اس ادارے کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں خدمت کو صرف پیشہ نہیں بلکہ عبادت سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ مریضوں کے ساتھ ہمدردی اور محبت کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الشفاء آئی ٹرسٹ ہسپتال امید اور اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی بھی فلاحی ادارے کی کامیابی کے پیچھے مخلص قیادت اور خدمت کا جذبہ ہوتا ہے۔ ریٹائر جنرل جہانداد خان نے جس پودے کو لگایا تھا وہ آج واقعی ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ ریٹائر میجر جنرل رحمت خان کی قیادت میں یہ ادارہ روشنی کا پیغام ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کے لیے سرگرم ہے۔
ایسے ادارے معاشرے کے لیے ایک نعمت ہوتے ہیں کیونکہ یہ صرف بیماریوں کا علاج ہی نہیں کرتے بلکہ انسانیت کے دلوں میں امید اور اعتماد کی شمع بھی روشن کرتے ہیں۔ الشفاء آئی ٹرسٹ ہسپتال اس بات کی زندہ مثال ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور مقصد انسانیت کی خدمت ہو تو ایک چھوٹا سا قدم بھی وقت کے ساتھ ایک عظیم مشن میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد اور مخیر حضرات ایسے فلاحی اداروں کی سرپرستی کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سے مستفید ہو سکیں۔ اگر ہم سب مل کر انسانیت کی خدمت کے اس سفر میں اپنا حصہ ڈالیں تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں کوئی بھی شخص محض وسائل کی کمی کے باعث بینائی کی نعمت سے محروم نہیں رہے گا۔
Table of Contents
https://timelinenews.com.pk/cbd-punjab-successfully-concludes-ballot/
https://dailytimeline.pk/?p=10045
الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال ” روشنی” "امید "اور خدمت انسانیت کی روشن داستان
