دُنیا کامحو ومرکز”اسلام آباد تحریر۔ کبیرحُسین
عصرحاضرمیں اِس وقت پوری دُنیاکی نگاہیں ”اسلام آباد“پرہیں۔امریکہ ایران کشیدگی نے جہاں عالمی بحران کوجنم دیاوہیں اِس وقت پوری دُنیاامن کی بحالی کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کوبھرپورسراہ رہی ہے اورنہ صرف پاکستانی اقدامات کی تائیدکی جارہی ہے بلکہ یورپ،وسط ایشیاء،عرب سمیت دُنیاکے پارلیمانوں سے ”شاباش پاکستان“کی آوازیں بلندہورہی ہیں۔گزشتہ ہفتہ جب وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں امریکہ اورایران کے مذاکرات جاری تھے توپوری دُنیاشدت سے منتظرتھی کہ اسلام آبادسے کیافیصلہ جاری ہوتاہے۔مذاکرات کی ناکامی یاکامیابی علیحدہ بحث ہے۔
لیکن۔نہ صرف پاکستان بلکہ اُمت مسلمہ کیلئے بھی باعث فخرہے کہ دونوں فریقین مسئلہ کے حل اور مذاکرات کے حوالے سے پاکستان پربھرپوراعتماد کررہے ہیں۔وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہبازشریف اورفیلڈمارشل،آرمی چیف،حافظ جنرل سیدعاصم منیرکی شبانہ روزکاوشوں سے دونوں فریقین پاکستان میں مذاکرات کیلئے بیٹھے۔پاکستان کی تاریخ میں اِس سے قبل ایسی مثال نہیں ملتی بلکہ یوں کہاجائے کہ دُنیامیں ڈیڑھ ماہ سے جاری کشیدگی اورعالمی بحران کے حل کیلئے اسلام آبادنے جواقدامات کئے ہیں اورکررہاہے ایسی کاوشوں کی مثال نہیں ملتی۔نائب وزیر اعظم ووفاقی وزیربرائے خارجہ اسحاق ڈارگزشتہ ڈیڑھ ماہ سے مسئلہ کے حل کیلئے اقوام عالم سے مسلسل رابطوں میں ہیں۔
اسلام آباد میں ہونیوالے مذاکرات کے موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ،وفاقی سیکرٹری وزارت اطلاعات ونشریات اشفاق خلیل،پرنسپل انفارمیشن آفیسرمبشرحسن کی جانب سے میڈیافیسیلی ٹیشن سینٹرکی بھی اِس وقت پوری دُنیامیں گونج ہے۔بین الاقوامی صحافتی برادری وزات اطلاعات ونشریات کے بہترین اقدامات کی بھرپور ستائش کررہی ہے۔عصرحاضرمیں جدیدتقاضوں کے حامل پاکستانی میڈیافیسیلی ٹیشن سینٹر نے نہ صرف بین الاقوامی صحافتی برادری کوبھرپورسہولیات فراہم کیں بلکہ دُنیابھرکی نگاہیں پاکستانی میڈیافیسیلی ٹیشن سینٹرسے جاری خبروں پرمرکوزتھیں۔
اِسی طرح حکومت پاکستان کے دیگربہترین انتظامات پردونوں فریقین نے بھی بھرپوردادتحسین دی۔مذاکرات کے پہلے دورکے بے نتیجہ اختتام کے بعدایک دفعہ پھرگزشتہ شب سے مذاکرات کے دوسرے دورکی بھی کوششیں جاری ہیں۔وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہبازشریف اورفیلڈمارشل،آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیر کی کاوشوں سے عالمی بحران کے خاتمے کی کاوشیں مسلسل جاری ہیں۔گزشتہ شب امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے بھی بین الاقوامی میڈیاسے گفتگومیں صاف طورپرکہہ دیاہے کہ مذاکرات کااگلادوربھی ”اسلام آباد“میں ہوگا۔
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ بھی امن کے حوالے سے وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہبازشریف اورفیلڈمارشل،آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیر کی بھرپورستائش کررہے ہیں۔اِسی طرح ایران سے بھی مذاکرات کے دوسرے دورکے حوالہ سے ”اسلام آباد“کاذکرکیاجارہے۔ایرانی قیادت بھی اِس وقت وزیر اعظم محمد شہبازشریف،فیلڈمارشل حافظ جنرل سیدعاصم منیرکی کاوشوں کوانتہائی قدرکی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ایرانی عوام کے ہاتھوں میں سبزہلالی پرچم اورپاکستان زندبادنعروں کی بھرپورگونج ہے۔
آبنائے ہرمزکے حوالہ سے ایران نے جب اعلان کیاکہ جس جہازپرپاکستانی پرچم ہوگااُسے گزرنے کی اجازت ہوگی اورصرف اورصرف پاکستانی بحری جہاز جب چاہیں گزریں تونہ صرف پوری پاکستانی قوم بلکہ اُمت مسلمہ کاسربھی فخرسے بلندتھا۔دونوں ممالک میں تنازعہ کے نازک ترین لمحات میں پاکستان کی قیادت نے انتہائی محتاط انداز میں اوربڑے اعتماد کے ساتھ دونوں فریقین کو عارضی جنگ بندی پر نہ صرف راضی کیا بلکہ دونوں فریقین میں مذاکرات کیلئے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو میزبانی کا شرف بھی عطا فرمایا۔پاکستان کے دُشمن جنہوں نے پاکستان میں دہشتگردی،افراتفری کیلئے اربوں کی فنڈنگ کی،عالمی سطح پرپاکستان کوتنہاکرنے کی مذموم سازشیں کی اوربڑھکیں ماریں آج پاکستان کے وُہ سب دُشمن منہ کی کھارہے ہیں بلکہ بھارت کے اندرسے پاکستان کی حمایت میں آوازیں بلندہورہی ہیں اوراپوزیشن جماعتیں فاشسٹ مودی کوبھرپورتنقیدکانشانہ بنارہی ہیں۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ اُٹھاکردیکھ لیں جس نے بھی پاکستان کیخلاف سازش رچائی ہمیشہ اُس دُشمن کومنہ کی کھاناپڑی۔
خیر۔بات ہورہی تھی عالمی بحران کی تواِس وقت سعودی عرب،برطانیہ،فرانس،اٹلی،چین سمیت پوری دُنیاکی نگاہوں کا محوومرکزصرف اور صرف اسلام آبادہے۔اقوام عالم عالمی بحران کے خاتمے کیلئے مسلسل پاکستانی قیادت سے رابطہ میں ہیں اورایران امریکہ تنازعہ کے خاتمہ کیلئے پاکستان سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرارہے ہیں۔
قارئین کرام!
پاکستان کی کاوشوں سے اِس وقت دونوں فریقین میں عارضی جنگ بندی ہے اورتنازعہ کے حل کیلئے بھی کاوشیں جاری ہیں۔ اُمیدواثق ہے کہ اگردونوں فریقین میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کاآغازاسلام آباد میں ہوتاہے تونہ صرف عالمی بحران کاخاتمہ ہوگابلکہ اِس دفعہ یہ مذاکرات نتیجہ خیزثابت ہوں گے۔
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=10187
