بات اب وہ رہی نہیں تحریر: محمد محسن اقبال

انسانی تاریخ کے طویل سفر میں، افراد ہوں یا اقوام، ہمیشہ کچھ ایسی دلکش مگر نازک فریبِ نظر کے سہارے جیتے آئے ہیں جو ان کی جدوجہد کو معنی عطا کرتے اور ان کی اجتماعی خودداری کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ خوش گمانیاں، جو عادت، مشترکہ یقین اور ماضی کی فتوحات کی یادوں سے بُنی جاتی ہیں، قوموں کو باہم امن قائم رکھنے اور دنیا میں وقار حاصل کرنے کا حوصلہ بخشتی ہیں۔ یہی وہ سہارا ہیں جو ناامیدی کے اندھیروں کے مقابل ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے رہتے ہیں اور اہلِ سیاست و عوام کو زندگی کی بے یقینیوں میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔
لیکن جب یہ خوش فہمیاں ٹوٹنے لگتی ہیں—جب دنیا اب پرانی یقین دہانیوں کے تابع نہیں رہتی—تو اخلاقی شکست ایک خاموش مگر ناگزیر حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ قوتیں جو کبھی ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھیں، اپنی محدودیتوں سے آشنا ہونے لگتی ہیں، اور ان کی ہیبت رفتہ رفتہ ایک عارضی اور کمزور حقیقت میں بدل جاتی ہے۔
ایسا ہی ایک لمحہ حالیہ دنوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ پر بھی آن پڑا ہے۔ طویل عرصے تک جب بھی واشنگٹن نے کسی فوجی مہم کا ارادہ کیا یا کسی ناپسندیدہ حکومت کے خاتمے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا، اس کے روایتی اتحادی ہر دم اس کے شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیے—چاہے وہ کھلی حمایت ہو، عملی معاونت یا پسِ پردہ سفارتی سہارا۔
مگر اب یہ روایت ایک فیصلہ کن انداز میں ٹوٹ چکی ہے۔ ایران کے حوالے سے حالیہ کشیدگی کے دوران امریکہ کے دیرینہ اتحادیوں—یورپ، نیٹو اور دیگر اتحادوں—نے نہایت واضح اور دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ وہ کسی ایسی فوجی کارروائی کی حمایت یا اس میں شرکت نہیں کریں گے جس کا مقصد ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو۔ یہ انکار بند کمروں میں سرگوشیوں تک محدود نہ رہا بلکہ برملا اور مضبوط لہجے میں دنیا کے سامنے آیا۔
یوں پہلی بار حالیہ تاریخ میں امریکہ خود کو اپنے قریبی اتحادیوں کے درمیان بھی سفارتی تنہائی کا شکار دیکھنے لگا، اور اس کے اثر و رسوخ کی وہ حدیں عیاں ہو گئیں جو کبھی ناقابلِ سوال سمجھی جاتی تھیں۔
اس غیر متوقع صورتِ حال میں ایران نے غیر معمولی بردباری اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے اسرائیل اور اس کے طاقتور حامی کے مقابل ڈٹے رہتے ہوئے نہایت متوازن مگر پُرعزم دفاع کیا، جس کے باعث اسے خطے اور دنیا کے کئی حلقوں میں ایک اخلاقی برتری حاصل ہوئی۔
ایک تنہا ہوتی ہوئی سپر پاور کا منظر، جو اپنی روایتی اتحادی قوتوں کو ساتھ ملانے میں ناکام رہی، عالمی تصورات میں ایک گہری اور خاموش تبدیلی کا سبب بنا ہے۔ امریکہ، جو کبھی اپنی عسکری طاقت اور عالمی معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت کے باعث خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا، اب ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے میں دشواری محسوس کر رہی ہے۔
اس کے ردعمل میں واشنگٹن کے بعض حلقوں سے اپنے سابقہ اتحادیوں کے لیے دبے لفظوں میں تنبیہات بھی سامنے آئیں کہ آئندہ جب یورپ یا دیگر علاقوں میں بحران جنم لیں گے تو شاید امریکہ کی مدد اسی فراخ دلی سے میسر نہ ہو۔ تاہم یہ انتباہات، جو کبھی اثر انگیز ہتھیار ہوا کرتے تھے، اب بے اثر محسوس ہوتے ہیں۔ اتحادی ممالک گویا اس راستے سے اکتا چکے ہیں جسے وہ اب مشترکہ مفاد اور سلامتی کا ضامن نہیں سمجھتے، اور خاموشی سے اپنی خودمختار راہ اختیار کر رہے ہیں۔
یہ دراڑ خلیجی ممالک تک بھی پھیل گئی ہے، جن کی سلامتی کے معاملات طویل عرصے سے امریکی پالیسیوں سے جڑے رہے ہیں۔ ان ریاستوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ اسرائیل کے مفادات کے لیے کسی تنازع میں شامل نہیں ہوں گی، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ خطہ اب بیرونی ایجنڈوں کا آلہ کار بننے سے گریزاں ہے۔
ان تمام تر انکار کے باوجود، امریکہ نے آبنائے ہرمز—جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے—کے تحفظ کے لیے عالمی مدد کی اپیل کی، مگر اس درخواست کو بھی سرد مہری اور خاموشی کا سامنا کرنا پڑا۔ جو کام کبھی ایک اشارے سے ہو جاتا تھا، اب طویل سفارتی کوششوں کے باوجود نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکا۔
امریکہ کے اندر بھی ان حالات کے اثرات شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو کانگریس کے ارکان، عوامی حلقوں اور بااثر مبصرین کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ جو باتیں پہلے محض قیاس آرائی تھیں، اب کھلے عام ان کے منصب سے ہٹائے جانے کے امکانات پر گفتگو ہو رہی ہے—چاہے وہ آئینی طریقوں سے ہو یا عوامی دباؤ کے ذریعے۔
مزید برآں، ٹرمپ کی جانب سے پوپ لیو پر تنقید نے بھی ان کے خلاف ردعمل کو مزید شدید کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف سیاسی بلکہ اخلاقی و مذہبی حلقوں میں بھی تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی نے امریکہ کی وہ غیر مرئی مگر نہایت قیمتی قوتیں—جیسے خوف، وقار اور اعتماد—کمزور کر دی ہیں، جو دہائیوں کی محنت اور حکمتِ عملی سے حاصل کی گئی تھیں۔
یوں غیر متنازع بالادستی کا وہ پرانا تصور، جو کبھی امریکہ کی پہچان تھا، اب بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔ کینیڈا جیسے قریبی اور دیرینہ دوست بھی بعض پالیسیوں سے فاصلہ اختیار کرتے نظر آتے ہیں، جو اس بڑھتی ہوئی خلیج اور اتحادوں کی کمزوری کی ایک اور علامت ہے۔
بعض مبصرین کے مطابق، امریکہ اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ایک ہی راستہ اختیار کر سکتا ہے؛ صدر ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانا، تاکہ عالمی سطح پر کھویا ہوا وقار کسی حد تک بحال کیا جا سکے۔ ان کے نزدیک یہی قدم امریکہ کو دوبارہ اعتماد اور سفارتی حیثیت دلانے میں مدد دے سکتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خوش فہمیاں—چاہے کتنی ہی دلکش کیوں نہ ہوں—زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں جب وہ بدلتی حقیقتوں سے مطابقت کھو بیٹھیں۔ قوموں کو بھی، افراد کی طرح، بالآخر دنیا کو ویسا ہی تسلیم کرنا پڑتا ہے جیسی وہ حقیقت میں ہے، نہ کہ جیسی وہ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔
ممکن ہے کہ امریکہ کے لیے موجودہ صورتِ حال ایک مثبت موڑ ثابت ہو، اگر وہ اسے خود احتسابی اور حقیقت پسندی کی جانب لے آئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غرور اور تکبر نے بڑی بڑی قوتوں کو زوال سے دوچار کیا ہے؛ دانائی اسی میں ہے کہ انسان اس لمحے کو پہچان لے جب پرانی یقین دہانیاں نئی حقیقتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ اس سبق کو سیکھتا ہے یا نہیں—مگر اتنا طے ہے کہ دنیا کی نظریں بدستور اس پر مرکوز ہیں، نہایت باریک بینی اور گہری توجہ کے ساتھ۔
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=10187
