روس یوکرین جنگ
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں محاذ صرف یوکرین کے میدانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات براہِ راست روسی سرزمین کے اندر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یوکرین کی جانب سے روس کے اندر گہرائی تک کیے گئے ڈرون حملوں اور رو س کی نئی فوجی پیش قدمیوں نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ رو س ایک بڑے اور فیصلہ کن حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روسی فوجیں ایک ایسے اہم شہر کے قریب پہنچ چکی ہیں جسے یوکرین کے دفاعی نظام میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اگر روس اس شہر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو مشرقی یوکرین میں طاقت کا توازن مزید تبدیل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب یوکرین نے بھی جنگی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی دکھائی ہے۔ اب یوکرینی افواج صرف دفاع تک محدود نہیں رہیں بلکہ روس کے اندر اہم فوجی اور معاشی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ماسکو کے قریب ڈرون حملوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ یوکرین اب رو سی دارالحکومت تک رسائی کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔
روسی حکام کے مطابق حالیہ یوکرینی ڈرون حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ ماسکو کی مرکزی آئل ریفائنری سمیت کئی حساس تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ روس نے ان حملوں کو “دہشت گردانہ کارروائیاں” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔
ماسکو کے قریب حملے صرف عسکری نوعیت کے نہیں بلکہ نفسیاتی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔ روسی عوام جو اب تک جنگ کو زیادہ تر یوکرین تک محدود سمجھتے تھے، اب اپنے شہروں اور تنصیبات کو براہِ راست خطرے میں دیکھ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے روسی حکومت پر عوامی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔
یوکرین کا موقف ہے کہ روسی حملوں کے جواب میں روس کے اندر فوجی اہداف کو نشانہ بنانا اس کا حق ہے۔ یوکرینی قیادت کا کہنا ہے کہ جب روس یوکرینی شہروں، پاور اسٹیشنز اور شہری آبادیوں پر میزائل برساتا ہے تو یوکرین بھی دشمن کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے اندرونی تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے۔
رو س نے حالیہ مہینوں میں یوکرین پر میزائل اور ڈرون حملوں کی شدت بڑھا دی ہے۔ خاص طور پر توانائی کے نظام، بجلی گھروں اور فوجی مراکز کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ یوکرین کی معیشت اور دفاعی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
یوکرین کو مغربی ممالک کی جانب سے جدید ہتھیار اور فضائی دفاعی نظام مسلسل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کو روسی جارحیت کے سامنے تنہا نہیں چھوڑیں گے، تاہم بعض مغربی حلقوں میں جنگ کے طویل ہونے پر تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔
رو س کا دعویٰ ہے کہ مغربی ممالک عملاً اس جنگ کا حصہ بن چکے ہیں کیونکہ یوکرین کو فراہم کیے جانے والے جدید ہتھیار روسی علاقوں پر حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ ماسکو بارہا خبردار کر چکا ہے کہ اگر مغربی مداخلت مزید بڑھی تو اس کے نتائج پورے یورپ کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
ماسکو کی آئل ریفائنری پر حملہ خاص طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ روس کی معیشت کا بڑا انحصار تیل اور گیس کی برآمدات پر ہے۔ اگر یوکرین مسلسل توانائی کے مراکز کو نشانہ بناتا رہا تو روسی اقتصادی نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق یوکرین کی نئی حکمتِ عملی کا مقصد رو س کو یہ احساس دلانا ہے کہ جنگ کی قیمت صرف یوکرین ہی نہیں بلکہ روس کو بھی ادا کرنا پڑے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اب روسی شہروں میں فضائی دفاعی نظام مزید فعال کر دیے گئے ہیں۔
دوسری طرف رو س نے بھی مشرقی یوکرین میں اپنی فوجی پیش قدمی تیز کر دی ہے۔ روسی افواج چھوٹے چھوٹے دیہات اور قصبوں پر قبضہ کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اہم شہروں کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ رو س کا خیال ہے کہ مسلسل دباؤ کے ذریعے یوکرین کی دفاعی لائن کو توڑا جا سکتا ہے۔
یوکرینی صدر بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر رو س کو نہ روکا گیا تو اس کے عزائم یوکرین تک محدود نہیں رہیں گے۔ اسی لیے یوکرین عالمی برادری سے مزید فوجی امداد، فضائی دفاعی نظام اور جدید میزائلوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔
جنگ کے آغاز میں بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ یہ تنازع چند مہینوں میں ختم ہو جائے گا، لیکن اب دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود جنگ مزید پیچیدہ اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھا چکے ہیں۔
رو س کے اندر بڑھتے ہوئے حملے اس بات کی علامت ہیں کہ یوکرین اب دفاعی جنگ سے نکل کر “جوابی دباؤ” کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد روسی فوج اور عوام دونوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ جنگ کی آگ سرحد پار بھی پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ماسکو اور دیگر روسی شہروں پر حملوں میں اضافہ ہوا تو رو س مزید سخت اور تباہ کن جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
اقوام متحدہ اور کئی عالمی طاقتیں مسلسل جنگ بندی کی اپیل کر رہی ہیں، لیکن دونوں ممالک اس وقت پسپائی کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ روس اپنے اہداف حاصل کیے بغیر جنگ ختم کرنے کے لیے تیار نہیں جبکہ یوکرین اپنی سرزمین واپس لینے پر زور دے رہا ہے۔
اس جنگ نے عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ تیل، گیس، گندم اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے دنیا بھر کے ممالک کو متاثر کیا ہے۔ یورپ میں توانائی بحران بھی اسی جنگ کے اثرات میں شامل ہے۔
رو س اور یوکرین کے درمیان جاری ڈرون جنگ نے جدید جنگی حکمتِ عملی کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ کم لاگت ڈرونز اب اربوں ڈالر کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے دنیا بھر کی افواج اپنی دفاعی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کر رہی ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یوکرین کی جانب سے رو س کے اندر حملے جنگ کے توازن کو بدلنے کی کوشش ہیں، کیونکہ زمینی محاذ پر روس کو عددی برتری حاصل ہے۔ اس لیے یوکرین اب ٹیکنالوجی اور ڈرون طاقت کے ذریعے روس پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
روس کی اندرونی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماسکو جیسے سخت سکیورٹی والے شہر تک ڈرونز کا پہنچ جانا روسی دفاعی نظام کے لیے ایک چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔
اگر یہی صورتحال جاری رہی تو مستقبل میں روس کے اندر مزید بڑے حملے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ اسی طرح رو س بھی یوکرین کے بنیادی ڈھانچے پر حملے مزید تیز کر سکتا ہے، جس سے انسانی بحران میں اضافہ ہوگا۔
دنیا اس وقت اس جنگ کو صرف دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نیا حملہ، ہر نئی پیش قدمی اور ہر نئی دھمکی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔
اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا یہ جنگ واقعی یوکرین کی سرحدوں سے نکل کر روس کے اندر تک پھیل چکی ہے؟ حالیہ حملے، ماسکو تک پہنچنے والے ڈرونز اور رو سی شہروں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جنگ کا دائرہ پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور خطرناک ہو چکا ہے۔
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=10293
