افغان مہاجرین کی آبائی وطن واپسی۔
تحریر۔کبیرحُسین
مادرعزیزپاکستان نے نہ صرف عالمی امن،دہشتگردی کے خاتمہ،عالمی سطح پرانسانی حقوق اورخصوصاًمسئلہ کشمیرہویافلسطین کے حل کیلئے ہمیشہ اپنابھرپوراورقائدانہ کرداراداکیاہے۔آج نہ صرف خطہ بھرکے ممالک بلکہ دُنیاکی نگاہیں صرف اور صرف اسلام آبادپرمرکوزہوتی ہیں اوردُنیابھرکی اُمیدیں پاکستان سے وابستہ ہیں کہ کب پاکستان سے عالمی بحران اور خطے کے تنازعہ کاحل نکلتا ہے۔
اِسی طرح امن کے دُشمنوں،انسانیت کے قاتلوں،فتنۃ الہندوستان وفتنۃ الخوارج کے خاتمہ ودہشتگردی کی لعنت کے خاتمہ کیلئے بھی دُنیامیں واحدمملکت خُدادادپاکستان ہے جوبھرپورکرداراداکررہاہے۔دہشتگردی کی جنگ میں نہ صرف افواج پاکستان،سیکیورٹی اداروں،سیاستدانوں حتیٰ کہ پاکستانی بچوں نے بھی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔
اگربات کی جائے دہشتگردوں کے سہولتکاروں کی توجہاں بھارت خطہ کے امن کاسب سے بڑادُشمن ہے وہیں دہشتگردوں کی سہولتکاری اورانسانیت کے قاتلوں کوبھرپورفنڈنگ کررہاہے۔کلبھوشن یادیوجیسے ”را“کے ایجنٹ دُنیاکے سامنے واضح ثبوت ہیں۔بھارت کیساتھ ساتھ افغانستان بھی دہشتگردوں کاسہولتکار،اِنہیں محفوظ ٹھکانے دینے اوراِن کی بھرپورسرپرستی میں شامل ہے۔حالانکہ۔ دُنیانے دیکھاکہ چالیس دہائیاں جس ملک نے افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی،انہیں بطوربھائی اپنامہمان بنایااور نہ صرف افغانستان کی ہرمشکل اور کٹھن حالات میں بڑابھائی ہونے کا حق اداکیاوہیں ہرموقع پرساتھ بھی دیا۔ 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کی فوج کشی،نوے کی دہائی ہویاامریکہ کے حملے کے بعد سے لاکھوں مہاجرین کی مہمان نوازی پاکستانی عوام اور حکومت نے کھلے دل سے افغان مہاجرین کا استقبال کیا اور دہائیوں تک انہیں اپنے معاشرے کا حصہ بنائے رکھا۔اِسی طرح افغانستان میں قدرتی آفات میں کھل کرمددشامل ہویاکوئی بھی مسئلہ۔پاکستان نے افغانستان کاہمیشہ بھرپورساتھ دیا۔لیکن۔
افغانستان آج امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت کی گود میں بیٹھ چکاہے اوراپنے ہی محسن پاکستان کے معصوم شہریوں کے قاتلوں،دہشتگردوں کومحفوظ پناہ گاہیں دے رہاہے۔لیکن۔الحمداللہ آج پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج کی جانب سے آپریشن غضب اللحق جاری ہے جس میں بچے کھچے دہشتگردوں کاقلع قمع کیاجارہاہے۔
خیربات ہورہی تھی افغان مہاجرین کی واپسی کی توافغان مہاجرین کی پاکستان سے وطن واپسی کا معاملہ خطے کی سیاست اور معیشت میں ایک انتہائی اہم اور دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔چار دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان میں پناہ لینے والے افغان باشندوں کی باعزت اور پرامن واپسی نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور عالمی برادری کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ عصرحاضرکاتقاضاہے کہ افغان مہاجرین کواب واپس اپنے وطن جاناہوگا۔
چاردہائیاں پاکستان کی جانب سے بھرپور مہمان نوازی اورنہ صرف بحثیت مسلمان بلکہ انسانیت کے ناطے بھی اِن کی بھرپورامداد کااعتراف اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھی کرچکے ہیں۔وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمدشہبازشریف کی کابینہ کے متحرک وفاقی وزیربرائے داخلہ سیدمحسن نقوی کی زیرقیادت حکومت پاکستان کی جانب سے غیرقانونی طورپرمقیم افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔
حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کا سلسلہ دو مرحلوں میں چلایا گیا جس کے تحت اب تک لاکھوں افراد افغانستان واپس جا چکے ہیں۔ چمن اور طورخم بارڈر کے راستے ہزاروں افغان خاندانوں کی اِن کے آبائی وطن واپسی عمل میں لائی جا چکی ہے۔ مہاجرین کی سہولت کے لیے سرحدی علاقوں میں عسکری اور سول انتظامیہ کی جانب سے رجسٹریشن، اسکریننگ اور ٹرانزٹ کیمپوں کے خصوصی انتظامات موجود ہیں۔اس بڑے پیمانے پر ہونے والے انخلاء کے دوران بین الاقوامی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنایاجارہاہے۔
قارئین کرام!
افغان مہاجرین کی واپسی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ یہ خطے کے امن اور خوشحالی سے جڑا ایک تاریخی موڑ ہے۔ ایک طرف جہاں پاکستان دہشتگردی کی لعنت کوہمیشہ کیلئے ختم کررہاہے تووہیں معاشی اورداخلی سلامتی کے چیلنجزپربھی قابوپایاجارہاہے۔ وہیں ایک طویل عرصے تک مہمان نوازی کی روایت کو نبھاتے ہوئے افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی انتہائی ضروری ہے۔آج افغانستان کوبخود اپنے شہریوں کی آبادکاری کویقینی بناناہوگااِسی طرح اقوام عالم سمیت اقوم متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین جیسے عالمی اداروں کوبھی چاہیے کہ وہ افغانستان میں آبادکاری کے لیے نہ صرف افغانستان حکومت سے براہ راست معاملات دیکھیں بلکہ افغان مہاجرین کی واپس آبادکاری کے حوالے سے اپناکرداراداکریں۔
