البرکہ فورم
19 جنوری 2026، کراچی :”ڈیجیٹل دور میں اسلامی معیشت: اصولِ مطابقت کے دائرے میں جدت“ کے عنوان سے چھٹی البرکہ فورم علاقائی کانفرنس کراچی کے پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں سینئر پالیسی سازوں، مالیاتی شعبے کے رہنماؤں، علماء، ریگولیٹرز اور صنعت کے ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ڈیجیٹل معیشت میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں اور اسلامی مالیات کے اصولوں سے اس کی ہم آہنگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
یہ کانفرنس البرکہ فورم برائے اسلامی معیشت کے زیرِ اہتمام، اسلامی چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے منعقد کی گئی جس نے اسلامی معیشت کے دائرے میں ڈیجیٹل تبدیلی، مالیاتی جدت اور ادارہ جاتی حکمرانی پر اسٹریٹجک مکالمے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی پلیٹ فارم فراہم کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، جناب جمیل احمد نے عالمی مالیاتی نظام میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا”
عالمی مالیاتی نظام ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ فوری ادائیگی کے پلیٹ فارمز، بدلتے ہوئے تقسیم کے ماڈلز اور مصنوعی ذہانت اب محض نظریاتی تصورات نہیں رہے بلکہ عملی حقیقت بن چکے ہیں۔ آج دنیا بھر میں 70 فیصد سے زائد افراد کسی نہ کسی شکل میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام استعمال کر رہے ہیں، جبکہ 80 فیصد سے زیادہ افراد اس جانب منتقلی کے لیے تیار ہیں، جو صارفین کے رویوں اور توقعات میں بنیادی تبدیلی کی واضح عکاسی ہے۔“
کانفرنس میں ڈیجیٹل اسلامی بینکاری، اسلامی سرمایہ کاری کے مستقبل، شریعت کی مطابقت اور حکمرانی، وقف اور زکوٰۃ، ڈیجیٹل ڈسٹرپشن اور ایشیا میں ایک نمایاں اسلامی معیشت کے طور پر پاکستان کے اسٹریٹجک کردار پر جامع پینل مباحثے منعقد کیے گئے۔
افتتاحی کلمات میں البرکہ فورم برائے اسلامی معیشت کے سیکریٹری جنرل، جناب یوسف حسن خلوی نے ڈیجیٹل جدت کو اسلامی مالیات کے اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا”اگر اسلامی مالیات اسلامی بینکاری کے دائرے میں ڈیجیٹل معیشت کو مؤثر انداز میں سہولت فراہم کرے، تو یہ روایتی بینکاری کے ساتھ ہم قدم ترقی کرے گی۔ دونوں نظام ایک ہی وقت میں ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہے ہیں اور اصل فرق اس بات سے پڑے گا کہ جدت کو کس طرح اقدار، مطابقت اور ادارہ جاتی دیانت کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔“

یوسف حسن خلوی نے مزید کہا کہ ”فورم کے تحقیقی نقطۂ نظر اور کانفرنس میں پیش کی گئی دستاویزی فلم کے موضوعات کی عکاسی کرتے ہوئے آج اصل چیلنج یہ نہیں رہا کہ آیا اسلامی معیشت کو ڈیجیٹل بنایا جا سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس تبدیلی کو کس طرح منظم کیا جائے۔ پائیدار ڈیجیٹل اسلامی مالیات کے لیے مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچوں اور علماء، ریگولیٹرز اور صنعت کے رہنماؤں کی فعال شمولیت ناگزیر ہے، تاکہ جدت شریعت کے مقاصد اور طویل مدتی معاشی استحکام سے ہم آہنگ رہے۔“
کانفرنس کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جناب جمیل احمد کو پاکستان کے مالیاتی اور ریگولیٹری منظرنامے کی ترقی میں ان کی قیادت اور خدمات کے اعتراف میں البرکہ فورم برائے اسلامی معیشت کی جانب سے اعزازی ٹرافی پیش کی گئی، جو فورم کے سیکریٹری جنرل نے انہیں پیش کی۔
اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور البرکہ فورم کے سیکریٹری جنرل نے کانفرنس کے پلاٹینم اسپانسر ہونے کے اعتراف میں البرکہ بینک پاکستان کو بھی اعزازی یادگاری ٹرافی پیش کی۔ یہ ٹرافی البرکہ بینک پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب محمد عاطف حنیف نے وصول کی، جنہوں نے اس موقع پر کہا ”پاکستان کا بینکاری شعبہ مسلسل اور مستحکم ترقی کر رہا ہے۔ اسلامی معیشت کے اصولوں اور شریعت کی مطابقت کے ساتھ ڈیجیٹل حلوں کو یکجا کر کے ہم معاشرے کے وسیع تر طبقات کو ایک زیادہ جامع، قابلِ رسائی اور قابلِ اعتماد مالیاتی نظام کے ذریعے شامل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔“
کانفرنس کے دوران البرکہ فورم برائے اسلامی معیشت کی جانب سے تیار کردہ ایک دستاویزی فلم”ایشیا میں ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ اور اسلامی معیشت پاکستان کا تجربہ“بھی پیش کی گئی، جس میں خطے میں ڈیجیٹل اسلامی معیشت کی تشکیل میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا، بالخصوص مالی شمولیت، ڈیجیٹل جدت اور ادارہ جاتی فریم ورکس کے تناظر میں۔
کانفرنس کا اختتام واضح اور مستقبل پر مبنی سفارشات کے ساتھ ہوا، جن میں ڈیجیٹل اسلامی بینکاری کے لیے ایک شفاف اور مربوط فریم ورک کے قیام، بینکوں، شریعت بورڈز اور مالیاتی ریگولیٹرز کے مابین تعاون کے فروغ، اور ایک مستحکم، جامع اور ادارہ جاتی طور پر منظم ڈیجیٹل اسلامی معیشت کے لیے پاکستان کو علاقائی حوالہ جاتی ماڈل کے طور پر مضبوط بنانے کی اپیل شامل ہے۔
کانفرنس میں ممتاز سینئر رہنماؤں، ریگولیٹرز اور علماء کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنی آرا پیش کیں، جن میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور بینک آف پنجاب کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب ظفر مسعود، ایچ بی ایل ،حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب محمد ناصر سلیم، لکی انویسٹمنٹس لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب محمد شعیب، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شریعت ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین مفتی ڈاکٹر ارشاد احمد اعجاز، اور او آئی سی آربیٹریشن سینٹر کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمر اے اوثینی شامل تھے، جو کانفرنس کی اعلیٰ سطحی ادارہ جاتی، ریگولیٹری اور علمی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چھٹی البرکہ فورم علاقائی کانفرنس میں اہم اصلاحات کی تجویزhttps://timelinenews.com.pk/zong-4g-powers-pakistans-biggest-pubgm/
https://dailytimeline.pk/?p=9600
