آغا خان یونیورسٹی:
کراچی، 23 جنوری 2026: آغا خان یونیورسٹی (AKU) نے وفاقی وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے ساتھ نیشنل میوزیم آف پاکستان کی اپ گریڈیشن کے لیے شراکت داریکی ۔ اس شراکت داری کو کراچی میں آغا خان یونیورسٹی کے کیمپس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کے ذریعے باضابطہ شکل دی گئی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت جناب اورنگزیب خان کھیچی کے علاوہ آغا خان یونیورسٹی، آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) اور دیگر متعلقہ اداروں کی سینئر قیادت بھی موجود تھی۔
وفاقی وزیر جناب اورنگزیب خان کھیچی نے کہا” ہمارا ثقافتی ورثہ ہماری قومی شناخت کی بنیاد اور تمام پاکستانیوں کے لیے باعثِ فخر ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کے ساتھ یہ شراکت داری اس ورثے کے تحفظ کے ہمارے مشن میں ایک انقلابی قدم ہے۔ نیشنل میوزیم آف پاکستان کی بحالی کے ذریعے ہم صرف نوادرات کو محفوظ نہیں کر رہے بلکہ علم و آگہی اور ترغیب کا ایک عالمی معیار کا مرکز قائم کر رہے ہیں، جو پاکستان کی شاندار تاریخ کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور ہمارے شہریوں کے درمیان اتحاد اور وابستگی کے احساس کو فروغ دے گا۔“

اس منصوبے کا مقصد ادارہ جاتی مضبوطی کے ایک جامع پروگرام کے ذریعے نیشنل میوزیم آف پاکستان کو اپ گریڈ کرنا ہے، جس میں کیوریٹوریل بہتری، عوامی شمولیت اور میوزیم کے ذخائر کی بہتر نگرانی و دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس تعاون کے تحت شراکت دار اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ میوزیم پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ، پیشکش اور اس کی وسیع اور متنوع سامعین تک ترسیل میں مؤثر کردار ادا کرے۔
ان اقدامات کی نگرانی کے لیے ایک ایڈوائزری کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کی مشترکہ صدارت آغا خان یونیورسٹی پاکستان کے وائس پرووسٹ پروفیسر انجم ہلائ اور ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی اینڈ میوزیمز جناب امان اللہ کریں گے۔
وائس پرووسٹ پروفیسر انجم ہلائ نے کہا”میوزیمز معاشرے میں تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ اپنی ثقافت اور ورثے کی بہتر تفہیم پیدا کرتے ہیں۔ حال ہی میں قائم ہونے والی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے طلبہ اور اساتذہ اس منصوبے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔“
اس شراکت داری کے تحت آغا خان یونیورسٹی اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے دیگر ادارے نیشنل میوزیم آف پاکستان کی اپ گریڈیشن کے لیے اسٹریٹجک، تکنیکی اور مشاورتی معاونت فراہم کریں گے۔ اس منصوبے میں آغا خان یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے شعبۂ تاریخ، لندن میں واقع انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف مسلم سیولائزیشنز کے مؤرخین، اور آغا خان یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف آرکائیوز کے ماہرین ایک مرکوز علمی تعاون کے تحت شامل ہوں گے۔

آغا خان یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین نے کہا کہ” جب مرحوم ہز ہائنس آغا خان ثقافت اور ورثے کے شعبے میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے کام پر گفتگو کرتے تھے تو وہ بار بار ایک خاص اور نہایت طاقتور لفظ” فخر “ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔ ان کے مطابق ثقافت فخر کا سرچشمہ ہے جو پوری قوم کو متاثر اور متحد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسے دنیا کے سامنے اس کی بہترین صورت میں پیش کر سکتی ہے۔“
مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل آغا خان یونیورسٹی اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر کی قیادت نے نیشنل میوزیم آف پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے لائبریریوں، ذخیرہ اور کیٹلاگنگ کے طریقۂ کاراور موجودہ کیوریٹوریل و کہانی بیان کرنے کے انداز کا جائزہ لیا۔ یہ کام اس یقین پر مبنی ہے کہ ثقافت اور فنونِ لطیفہ سماجی ہم آہنگی، تعلیم، اور دنیا بھر میں شہری و دیہی آبادیوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: آغا خان یونیورسٹی اور وفاقی حکومت کا نیشنل میوزیم آف پاکستان کی اپ گریڈیشن کے لیے اشتراکhttps://timelinenews.com.pk/bangladesh-air-chief-calls-pakistan-air-chief/
مزید پڑھیں: آغا خان یونیورسٹی اور وفاقی حکومت کا نیشنل میوزیم آف پاکستان کی اپ گریڈیشن کے لیے اشتراکhttps://dailytimeline.pk/?p=9562
