سونے کی چمک اور معاشرتی تلخیاں تحریر: محمد محسن اقبال
سونے کی چمک اور معاشرتی تلخیاں تحریر: محمد محسن اقبال

سونا انسانی تاریخ میں محض ایک دھات نہیں بلکہ احترام، وقار اور نفسیاتی تحفظ کی ایسی علامت رہا ہے جس کا مقابلہ بہت کم چیزیں کر سکتی ہیں۔ تہذیب کے ابتدائی آثار سے ہی انسان اس کی چمک، دائمی پاکیزگی اور بے زوال حیثیت کی طرف کھنچا چلا آیا ہے۔ دیگر دھاتوں کے برعکس، جنہیں کارآمد بنانے کے لیے آگ، مہارت اور محنت درکار ہوتی تھی، سونا فطرت میں ایک تیار اور مانوس صورت میں موجود تھا—دریاؤں کی تہوں میں پڑی ہوئی چمکتی ڈلیاں، جن پر نہ زنگ کا اثر ہوتا تھا اور نہ وقت کا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سونا انسان کے لیے پہچانی جانے والی پہلی دھات بنا اور دولت، دوام اور آرزو کی اولین علامت ٹھہرا۔
آثارِ قدیمہ اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ انسان نے بہت ابتدائی دور ہی میں سونے کو محض جمع نہیں کیا بلکہ اسے زیورات، علامتی اشیا اور وقار کی نشانیوں میں ڈھالا۔ موجودہ بلغاریہ میں واقع وارنا کے قبرستان سے ملنے والی ساڑھے چھ ہزار سال پرانی دریافتیں ظاہر کرتی ہیں کہ قدیم معاشرے بھی سونے کو غیر معمولی نفاست کے ساتھ استعمال کر رہے تھے۔ موتی، کنگن اور رسمی آرائش کے یہ نمونے اس بات کا اظہار ہیں کہ سونا محض حسن نہیں بلکہ اختیار، تقدس اور سماجی مرتبے سے وابستہ تھا۔ بعد ازاں قدیم مصر نے اسے الوہی رنگ دیا، جبکہ میسوپوٹیمیا، وادیٔ سندھ، چین اور بحیرۂ روم کی تہذیبوں میں یہ عبادات، تجارت اور نظامِ حکومت کا حصہ بنا۔ جب تقریباً 600 قبل مسیح میں لیدیا میں سونے کے سکے رائج ہوئے تو سونا زیور کی حد سے نکل کر معیشت کی بنیاد بن گیا۔
برصغیر کے معاشروں میں سونے نے ایک منفرد اور گہری سماجی معنویت اختیار کی۔ یہاں یہ خاص طور شادی کے موقعہ پر بیٹی کے مستقبل سے جڑ گیا۔ والدین کے لیے بیٹی کو زیور دینا محض ایک رسم نہیں بلکہ محبت، ذمہ داری اور تحفظ کی علامت سمجھا گیا۔ چوڑیاں اور ہار محض زیبائش نہیں تھے بلکہ ایک خاموش سرمایہ تھے جو مشکل وقت میں سہارا بن سکتے تھے اور بیٹی کے وقار سے وابستہ تھے۔ یہ روایت صدیوں تک متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں میں بھی برقرار رہی، جو صبر و محنت سے بچت کر کے اس سماجی فریضے کو ادا کرتے تھے۔
تاہم، موجودہ دور میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے اس روایت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ معمولی زیورات بھی لاکھوں روپے کی حد عبور کر چکے ہیں، جس کے باعث بہت سے خاندانوں کے لیے بیٹی کی شادی ایک کٹھن مسئلہ بن گئی ہے۔ ایسے گھرانے بڑھتے جا رہے ہیں جہاں رشتے آتے ہیں مگر سونے کی استطاعت آڑے آ جاتی ہے۔ بعض اوقات مطالبہ کھلے الفاظ میں نہیں بھی ہوتا، مگر ایک غیر محسوس سماجی دباؤ موجود رہتا ہے، جو والدین کو احساسِ کمتری اور ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
کم آمدنی والے طبقے میں یہ مسئلہ ایک خاموش المیے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ کئی والدین قرض لینے، جمع پونجی یا جائیداد بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض بیٹیوں کی شادی غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دیتے ہیں۔ اس تاخیر کے نفسیاتی اثرات گہرے ہوتے ہیں—بیٹیاں خود کو بوجھ سمجھنے لگتی ہیں، والدین احساسِ ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں، اور پورا خاندان ایک مستقل اضطراب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ وہ درد ہے جو اعداد و شمار میں نظر نہیں آتا، مگر معاشرے کے اندر خاموشی سے پھیلتا چلا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل دور نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی پرتعیش شادیاں اور بھاری زیورات نے نجی خوشیوں کو عوامی نمائش میں بدل دیا ہے۔ یہ مناظر اُن خاندانوں کے لیے تکلیف دہ ہو جاتے ہیں جو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے بعد سونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ یوں خوشی کے مواقع بعض کے لیے مسرت کے بجائے محرومی اور بے بسی کا احساس بن جاتے ہیں۔
سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض مقامی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معاشی بے یقینی کی علامت بھی ہے۔ جب دنیا جنگوں، سیاسی عدم استحکام، مہنگائی اور مالی بحرانوں کا شکار ہوتی ہے تو سرمایہ سونے کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ جنوری 2026 میں سونے کا تاریخی سطح تک پہنچنا اسی عالمی بے چینی کا مظہر تھا۔ سونا، کاغذی کرنسی یا سرکاری بانڈز کے برعکس، کسی ادارے کے وعدے کا محتاج نہیں؛ اس کی قدر صدیوں کے اجتماعی اعتماد پر قائم ہے۔ جو چیز عالمی سرمایہ کار کے لیے تحفظ کا ذریعہ بنتی ہے، وہی عام آدمی کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتی ہے۔
جدید مثالیں بھی اسی رجحان کی توثیق کرتی ہیں۔ 1970 کی دہائی کے تیل کے بحران اور جغرافیائی سیاسی ہنگاموں سے لے کر مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی یورپ کے حالیہ تنازعات تک، بحران کے ہر دور میں سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جنگیں تجارتی راستوں کو متاثر کرتی ہیں، توانائی کی قیمتیں بڑھاتی ہیں اور حکومتوں کو زیادہ اخراجات پر مجبور کرتی ہیں، جس کا بوجھ اکثر کرنسی کے استحکام پر پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں سونا مہنگائی اور قدر میں کمی کے خلاف ڈھال بن کر ابھرتا ہے۔ موجودہ دور میں اس کردار کو مرکزی بینکوں کی جانب سے ذخائر میں تنوع کے لیے بڑے پیمانے پر خریداری اور شرحِ سود میں کمی کی توقعات مزید مضبوط کرتی ہیں، کیونکہ اس سے سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثوں کو رکھنے کی لاگت کم ہو جاتی ہے۔
تاہم، سونے کی بلندی کو محض منافع کے زاویے سے دیکھنا سادہ لوحی ہوگی۔ اس کی اصل کشش اس اطمینان میں ہے جو یہ غیر یقینی حالات میں فراہم کرتا ہے۔ افراد ہوں، ادارے ہوں یا ریاستیں، سونا تیزی سے بدلتی دنیا میں تسلسل کی علامت ہے۔ مرکزی بینکوں کے تہہ خانوں میں اس کا وزن اور خاندانی وراثت میں اس کی موجودگی ایک ہی جبلت کی عکاسی کرتی ہے۔
یوں سونا آج ایک متضاد حقیقت کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ یہ اب بھی حسن، تحفظ اور تاریخی تسلسل کی علامت ہے، مگر اس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے شادیوں کو مہنگا، روایات کو مشکل اور سماجی فرق کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایسے میں وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سونے کی اصل قدر کو دوبارہ سمجھیں—اسے محبت اور ذمہ داری کی علامت تو رہنے دیں، مگر اسے بیٹیوں کی شادی میں رکاوٹ، تاخیر اور محرومی کا سبب نہ بننے دیں۔ کیونکہ بیٹیوں کی خوشیوں کا وزن سونے کے تولوں سے نہیں، بلکہ والدین کی نیت، معاشرے کی سوچ اور انسانی وقار کے احترام سے ناپا جاتا ہے۔
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?page_id=7591
