نیاسال۔ نئے اہداف تحریر۔کبیرحُسین
نیاسال۔ نئے اہداف تحریر۔ کبیرحُسین
سال 2025ء جہاں پاکستان کی کامیابیوں وکامرانیوں کاسال رہاوہیں نئے سال 2026ء میں بھی کئی امتحاں ابھی باقی ہیں۔سال 2026ء میں جہاں دُنیانئے بلاکس میں تبدیل ہورہی ہے۔دفاعی،معاشی اورخارجہ محاذوں پرتبدیلیوں ہورہی ہیں وہیں پاکستان کوخارجہ محاذپرمزیدکام کرنے کی ضرورت ہے۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ سال آپریشن بنیان مرصوص اورمعرکہ حق میں کامیابی نے پاکستان کودُنیامیں ایک نئی پہچان دی جس کے نتیجے میں ہی پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ سمیت دیگرممالک خصوصاًوسطی ایشیائی ممالک سے بھی پاکستان کے تعلقات مزیدمضبوط ہوئے۔
سال 2025ء جہاں پاکستان کیلئے انتہائی مثبت ثابت ہواوہیں پاکستان کے ازلی دُشمن بھارت کوگزشتہ سال پاکستان کی جانب سے شکست کیساتھ ساتھ تنہائی کابھی سامناکرناپڑاخصوصاًامریکہ نے گزشتہ سال جہاں بھارت پرٹیرف بڑھائے وہیں کینیڈاسمیت دیگرممالک نے بھارت سے تعلقات میں کمی دکھائی۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 بھارت کے لیے استحکام اور مضبوط پیش رفت کے بجائے بحرانوں، ناکامیوں اور دباؤ کا سال ثابت ہوا۔ رپورٹ کے مطابق داخلی اور خارجی محاذوں پر مسلسل مشکلات نے بھارت کو شدید مسائل میں مبتلا رکھا۔پاک بھارت فوجی کشیدگی، امریکا کے ساتھ تجارتی تنازعات، ایک مہلک طیارہ حادثہ، بھارتی روپے کی کمزوری اور مجموعی معاشی بے چینی نے 2025 کے دوران بھارت کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیاہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اسٹریٹجک خودمختاری کے دعوؤں کے باوجود بھارت کو امریکا، چین اور روس کے ساتھ توازن برقرار رکھنے میں شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ کئی بار مؤخر ہوا، جبکہ امریکی ٹیرف کے نفاذ نے بھارتی معیشت پر اضافی دباؤبھی ڈالا۔فنانشل ٹائمز کے مطابق جی ایس ٹی اصلاحات محدود شعبوں تک رہنے کے باعث معاشی ترقی کی رفتار متاثر رہی، جبکہ 2025 میں بھارتی روپیہ مسلسل ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کا شکار رہاجبکہ رپورٹ نے پاکستان کی نہ صرف معیشت بلکہ خارجہ اور دفاعی محاذوں پربھی کامیابیوں کوکھل کرسراہا۔
نئے سال میں پاکستان کیلئے سب سے بڑاہدف آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی اداروں کامزیداعتماد بحال کرناہے کیونکہ جوں جوں پاکستان کی معیشت مضبوط ہورہی ہے وہیں عالمی مالیاتی اداروں کیساتھ معاملات کومزیدبہترکرنے کی ضرورت ہے۔
اِس کیساتھ ساتھ ایف بی آرکوبھی نئے سال میں ٹیکس نیٹ کی مضبوطی اورجدیدنظام کی عملداری یقینی بنانی ہوگی چیئرمین ایف بی آرراشدلنگڑیال یوں توایک منجھے ہوئے بیوروکریٹ ہیں جنہوں نے اِس سے قبل پاورڈویژن میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں جن کے بدولت پاورڈویژن کے بحرانوں پربھی قابوپایاگیااُمیدہے ایف بی آر بھی نئے سال میں مزیدبہتری لائے گا۔
گزشتہ سال بین الاقوامی سرمایہ کاری سے بھی معیشت مضبوط ہوئی اوربین الاقوامی کمپنیوں اورتاجروں نے پاکستان میں تجارتی ماحول کومحفوظ قراردیالیکن اِس حوالے سے بھی پرامن ماحول کوقائم رکھناحکومت کیلئے انتہائی اہم ہے۔اگر بات کی جائے دہشتگردی کی توگزشتہ سال افواج پاکستان،سیکیورٹی اداروں نے وطن عزیزپاکستان میں دہشتگردی کے کئی مذموم منصوبے ناکام بنائے اورخارجیوں کوواصل جہنم کیااورجس تندوہی سے سپہ سالار،فیلڈمارشل،آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیر کی زیرقیادت افواج پاکستان خارجیوں،اُن کے سہولتکاروں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کررہی ہیں بہت جلدبچے کھچے دہشتگردوں کابھی قلع قمع کردیاجائے گا۔سیاسی ایوانوں کی بات کی جائے تواِس وقت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں حکومت کی کامیاب پالیسیوں،اقدامات سے نہ صرف مطمئن ہیں بلکہ مزیدبحرانوں پرقابوپانے کے حوالے سے بھی حکومت کیساتھ ہیں۔مسلم لیگ ن،ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی یکجہتی کیساتھ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہبازشریف،صدرمملکت آصف علی زرداری کی زیرقیادت شانہ بشانہ کام کررہیں۔لیکن۔
ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ملک میں بھرپورہیجان برپاکرنے کی ناکام کوششیں جاری ہیں خصوصاًصوبہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کیخلاف آپریشنز کے حوالے سے بھی اِس جماعت کی جانب سے جھوٹاپروپیگنڈاکیاجارہاہے اِس حوالے سے گزشتہ روزبھی وادی تیراہ کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈہ کیاگیاجس پروفاقی حکومت نے نوٹس لیااورفوراًوفاقی وزارت اطلاعات ونشریات نے وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروانے کے گمراہ کن پروپیگنڈہ کابھانڈاپھوڑتے ہوئے بتایاکہ یہ دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں اور ان دعووں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سیکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔خیر۔بات ہورہی تھی نئے سال کے نئے اہداف کی توآج پاکستان بحرانوں پرقابوپانے کے بعد ترقی کے ایک نئے دورمیں داخل ہورہاہے۔ آج سب سے زیادہ ضرورت بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے فرامین کے مطابق”ایمان۔اتحاد اور نظم وضبط“کی ہے۔بحثیت قوم اجتماعی طور پراگرہم اِن فرمودات پرعمل پیرارہے توانشااللہ بہت جلدپاکستان نہ صرف ایشین ٹائیگربلکہ دُنیاکی ایک بڑی معاشی قوت بن کراُبھرے گا۔+
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=9600
