آئی کیپ کے زیراہتمام نیشنل فنانس اولمپیاڈ 2025
آئی کیپ کے زیراہتمام نیشنل فنانس اولمپیاڈ 2025
کراچی،27جنوری،:2026 انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے پروفیشنل اکاؤنٹنٹس اِن بزنس (PAIB) کمیٹی کے زیر اہتمام نیشنل فنانس اولمپیاڈ (این ایف او) 2025 کا گرینڈ فائنل منعقد کیا جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے فنانس پروفیشنلز ، صنعتی رہنماؤں اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی ۔
تقریب کا آغاز آئی کیپ کے نائب صدر اور پی اے آئی بی کمیٹی کے چیئرمین،جناب سمیع اللہ صدیقی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے نیشنل فنانس اولمپیاڈ کو آئی کیپ کا ایک نمایاں اور فلیگ شپ اقدام قرار دیتے ہوئےکہا کہ ”اس اولمپیاڈ کے انعقاد کا مقصدفنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ورانہ افراد میں اسٹریٹجک سوچ، قیادت اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کوفروغ دینا ہے۔ انہوں نے اس طرح کے پلیٹ فارمز کی اہمیت پر زور دیا جو بڑھتے ہوئے مسابقتی کاروباری ماحول میں فنانس لیڈرز کو باصلاحیت اور باخبر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ “
تقریب سے اپنے خطاب میں آئی کیپ کے صدر، جناب سیف اللہ نے کارپوریٹ گورننس، پائیداری اور قومی معاشی ترقی میں فنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ورا فراد کے بدلتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا، اور پیشہ ورانہ برتری اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ قیادت کے فروغ کے لیے آئی کیپ کے عزم کی توثیق کی۔
اس سال میزان بینک لمیٹڈ کے بانی پارٹنر اور سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر،جناب عرفان صدیقی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے نیشنل فنانس اولمپیاڈ جیسے پلیٹ فارمز کو سراہا جہاں ٹیلنٹ نہ صرف سامنے آتا ہے بلکہ اسے ایک مسابقتی ماحول میں اسٹریٹجک بصیرت اور اسٹوری ٹیلنگ کے ذریعے کاروباری چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بھی بنایا جاتا ہے۔
اس کے بعد یونی لیور پاکستان کے ہیڈ آف کارپوریٹ فنانس، جناب عبد الرحیم عباسی نے خطاب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ” صنعت کی قیادت میں کیے جانے والے اقدامات پیشہ ورانہ علم کو عملی کاروباری چیلنجوں سے نمٹنے اور تجارتی سمجھ بوجھ رکھنے والی فنانس قیادت کو فروغ دینے میں نہایت اہم ہیں۔“
نیشنل فنانس اولمپیاڈ اپنے قیام سے اب تک فنانس پروفیشنلز کے لیے ایک ممتاز پلیٹ فارم کاکردار ادا کیا ہے جہاں وہ عملی کاروباری چیلنجز کے ذریعے اپنی تکنیکی مہارت اور اسٹریٹجک فیصلے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس سال منعقد ہونے والے مقابلوں میں 40 ٹیموں نے شرکت کی، جن میں کراچی سے 31، لاہور سے 5، اسلام آباد سے 3 جبکہ سعودی عرب (KSA) سے ایک بین الاقوامی ٹیم شامل تھی۔ دو سخت مراحل کے بعد چھ ٹیموں نے گرینڈ فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔
فائنل کے پہنچنے والی ٹیموں میں حبکو گرین (پرائیویٹ) لمیٹڈ، کریم(Careem) ، کے الیکٹرک، سسٹمز لمیٹڈ، بی اے ٹی (BAT)، الفا اینالسٹس، اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ شامل تھیں جنہوں نے اپنی مضبوط تجزیاتی کارکردگی اور اسٹریٹجک بصیرت کے ذریعے بجا طور پر اختتامی مرحلے میں جگہ بنائی۔
گرینڈ فائنل کی ایک نمایاں خصوصیت بورڈ روم چیلنج تھا، جس میں فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں نے ایک فرضی ماحول میں پیچیدہ کاروباری منظرناموں کے لیے اسٹریٹجک حل پیش کیے۔ اس مقابلے کا جائزہ ایک معزز جیوری نے لیا، جس میں لکی موٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر،جناب محمد فیصل، پاکستان آئل فیلڈز کے جنرل منیجر، جناب بلال خان، اور ملینیم انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ (MITE) کی ، ریکٹر، ڈاکٹر ہما بقائی شامل تھیں۔
گرینڈ فائنل میں متعدد مسابقتی مراحل شامل تھے جن کا مقصد شرکاء کی اسٹوری ٹیلنگ اور پریزنٹیشن کی مہارتوں کے ساتھ ساتھ مالیاتی مہارت اور اسٹریٹجک سوچ کو جانچنا تھا۔ ان میں”بورڈ روم – ان وائنڈ دی مائنڈ“، 100 سیکنڈ کا تیز رفتار چیلنج اور انٹرایکٹو ”اسپن دی وہیل“شامل تھے، جس میں ٹیموں کو اسکورنگ کے لیے خطرے کے عنصر کو مدِنظر رکھتے ہوئے مختلف زُمروں میں فیصلے کرنا تھے۔
آئی کیپ نے اولمپیاڈ کے کامیاب انعقاد میں تعاون پر اپنے ٹیکنیکل پارٹنرز، بی ڈی او ابراہیم اینڈ کمپنی اور ای وائے فورڈ رہوڈز، کے ساتھ ساتھ نالج پارٹنر کراچی اسکول آف بزنس اینڈ لیڈرشپ (KSBL) کی خدمات کو بھی سراہا۔
ایک سخت اور بھرپور مقابلے کے بعد الفا اینالسٹس کی ٹیم نیشنل فنانس اولمپیاڈ چیمپئن 2025 کے طور پر فاتح قرار پائی اور پر وقار ٹرافی اپنے نام کی جبکہ کے الیکٹرک اور کریم ٹیم کو بالترتیب پہلی اور دوسری رنرز اَپ ٹیمیں قرار دیا گیا۔تقریب کا اختتام یادگاری شیلڈز کی تقسیم، گروپ فوٹو سیشن اور عشائیے کے ساتھ ہوا۔
نیشنل فنانس اولمپیاڈ نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے فنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کو پر اعتماد قیادت کرنے، بدلتے ہوئے چیلنجوں سے ہم آہنگ ہونے ، اور قومی و بین الاقوامی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھانے کی ترغیب دیتا آرہا ہے۔ اس تقریب میں طلبہ، سینئر فنانس لیڈرز، آئی کیپ ممبران، سابق صدور، سدرن ریجنل کمیٹی کے اراکین اور پاکستان کی ممتاز کمپنیوں کے فنانس لیڈرز نے شرکت کی۔
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=9706
