ACCA-اے-سی-سی-اے-کی-پاکستان-لیڈرشپ-کنورسیشن-2026-اسلام-آباد-میں-اختتام-پذیر-.jpg
پاکستان لیڈرشپ کنورسیشن 2026 :
اسلام آباد، 27 جنوری 2026: پاکستان کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے مضبوط پالیسی ہم آہنگی، ادارہ جاتی صلاحیت اور ڈیجیٹل قابلیت ناگزیر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی رہنماؤں نے ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کے زیرِ اہتمام آٹھویں پاکستان لیڈرشپ کنورسیشن (PLC) کی اختتامی کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر، بورڈ آف انویسٹمنٹ، قیصر احمد شیخ نے اجتماعی اقدام کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا”پاکستان کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے حکومت، کاروباری شعبے اور اداروں کے درمیان اجتماعی تیز رفتاری ضروری ہے۔ کاروبار میں آسانی کو بہتر بنا کر، حکمرانی کو مضبوط کرتے ہوئے اور جدت کی حمایت کے ذریعے پاکستان خود کو ایک زیادہ مسابقتی اور سرمایہ کاری کے لیے پُرکشش معیشت کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔”

مجموعی تیز رفتاری اور معاشی تبدیلی کے موضوع پر منعقدہ سیشن میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی قیادت، مربوط اصلاحات اور پاکستان کے طویل المدتی ترقیاتی اہداف کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا”ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا حصول علیحدہ علیحدہ کامیابیوں یا قلیل المدتی حل سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے حکومت، صنعت اور اداروں کے درمیان اجتماعی کوشش درکار ہے، جس میں موسمیاتی استحکام، توانائی کی منتقلی اور پائیدار پیداواری صلاحیت ہماری معاشی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہوں۔”
عالمی تناظر پر بات کرتے ہوئے اے سی سی اے کی صدر، میلانی پروفٹ نے موسمیات، ٹیکنالوجی اور مہارتوں کے درمیان مربوط سوچ کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا”آئندہ مرحلے کی ترقی میں وہ ممالک کامیاب ہوں گے جو موسمیاتی اہداف، ڈیجیٹل تبدیلی اور انسانی صلاحیت کو یکجا کریں گے۔ فنانس پروفیشنلز احتساب کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے فیصلوں کی رہنمائی اور ذمہ دارانہ جدت کو ممکن بنانے میں منفرد کردار ادا کر سکتے ہیں۔”
کانفرنس کے آغاز پر اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ، اسد حمید خان نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی گفتگو نے عمل درآمد پر مبنی قیادت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔انہوں نے کہا”پالیسی میں ہم آہنگی اور ادارہ جاتی صلاحیت پاکستان کی ترقی کی سمت کا مرکزی ستون ہیں۔ قابلِ اعتماد حکمرانی، معیاری ڈیٹا اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار ادارے پائیدار اور جامع معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔”
اسلام آباد ایجنڈے میں "کلائمیٹ گورننس اینڈ ٹیک: اداروں میں قدر کی تخلیق”کے عنوان سے ایک خصوصی سیشن شامل تھا، جس کی نظامت سعدیہ خان، ہیڈ آف فنانس، ایشیا پیسیفک، ایڈم اسمتھ انٹرنیشنل،نے کی۔ پینل میں فرخ ایچ خان (سی ایف او، جاز)، فرخ ایچ سبزواری (ایم ڈی و سی ای او، پاکستان اسٹاک ایکسچینج)، مجیب ظہور (منیجنگ ڈائریکٹر، ایس اینڈ پی گلوبل پاکستان)، مسرت جبین (ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایس ای سی پی) اور محسن علی چوہدری (کارپوریٹ گورننس آفیسر و ESG ایڈوائزری لیڈ، آئی ایف سی) شامل تھے۔
ایک اور اہم نشست اے آئی، ڈیٹا اور کاروباری تبدیلی کے موضوع پربھی منعقد ہوئی، جس میں ڈیجیٹل شعبے کے فروغ کے لیے قیادت، صلاحیتوں اور حکمرانی کے کردار پر زور دیا گیا۔

محمد جے سیر، رکن، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے کلیدی خطاب کے ذریعے گفتگو کا آغاز کیا، جس کے بعد پینل ڈسکشن ہوئی جس کی نظامت مومنہ طارق، چیف ہیومن ریسورسز آفیسر، عسکری بینک لمیٹڈ نے کی۔ پینلسٹس میں عمار کریم (گروپ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک)، کبیر نقوی (ایف سی سی اے) (انٹرپرینیور اِن ریزیڈنس، ابھی فن ٹیک یو اے ای)، کنول چیمہ (سی ای او، ہواوے ایف ایس آئی بزنس یونٹ، پاکستان)، شہزاد یوسف (چیف ریٹیل سیلز آفیسر، پی ٹی سی ایل) اور سامیہ قمر (پاکستان سائٹ لیڈ و ریجنل ایچ آر ڈائریکٹر، آکٹَس) شامل تھیں۔
ابھی مائیکروفنانس بینک، ڈیٹا ریکال اور ڈاولینس نے PLC 2026 میں اسٹریٹجک پارٹنرز کے طور پر شرکت کی، جبکہ دی کوکا کولا کمپنی، میزان بینک لمیٹڈ، نیشنل فوڈز لمیٹڈ، پاک ریٹنگ اینڈ کریڈٹ ایجنسی (پیکرا)، پریسائنٹ کنسلٹنگ اور ایس اینڈ پی گلوبل پاکستان نے پلاٹینم پارٹنرز کے طور پر تعاون کیا۔
PLC 2026 کا اختتام پالیسی سازوں، کاروباری شعبے اور پیشہ ور برادری کے درمیان مسلسل تعاون کی اپیل پر ہوا تاکہ پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی قابلِ اعتماد، سرمایہ کاری کے لیے پُرکشش اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہے۔
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=9725
