بیتے ہوئے دن تحریر محمد محسن اقبال
بیتے ہوئے دن تحریر: محمد محسن اقبال

اگرچہ جنوری کے وسط میں یخ بستہ ہوائیں پوری شدت کے ساتھ چلتی ہیں اور پارہ نقطۂ انجماد کے خطرناک حد تک قریب جھکتا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر یہی وہ موسم ہوتا ہے جب یادیں غیر معمولی شدت کے ساتھ بیدار ہو جاتی ہیں۔ فضا کی سردی اپنے اندر یادوں کی ایک مانوس حرارت سمیٹے ہوتی ہے، جو ذہن کو بے اختیار لاہور کی تنگ و پیچیدہ گلیوں کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ جسے آج کی نئی نسل “والڈ سٹی” کہتی ہے، جسے بعض اندرونِ شہر کے نام سے جانتے ہیں، اور جسے لاہوریے محض “شہر” کہتے ہیں، وہ اس زمانے میں ایک زندہ وجود تھا، جو تاریخ، تہذیب اور قربت کی سانسیں لیتا تھا۔ سردیوں کی راتوں میں “گرم انڈے” کی صدائیں ایک خاص لے میں گونجتیں، چراغوں کی مدھم روشنی میں مونگ پھلی اور چلغوزے بکاکرتے۔ دوپہر کی دھوپ نرم محسوس ہوتی اور مسمی و سنگترے اپنی مٹھاس دوبالا کر دیتے، جبکہ صبحیں سری پائے، بونگ، نہاری اور چنوں کی خوشبو سے مہک اٹھتیں، جو گرم کلچوں یا پوری حلوے کے ساتھ پیش کی جاتیں—ایسے کھانے جو جسم ہی نہیں، روح کو بھی توانائی بخشتے تھے۔
جنوری کے دن ڈھلنے لگتے تو ہر محفل اور ہر گفتگو کا محور فروری کے پہلے اتوار پر آ جاتا، کیونکہ بسنت کا باقاعدہ اعلان ہو چکا ہوتا تھا۔ اس ایک لفظ کا ذکر ہی دلوں میں ایک عجیب سی سرشاری بھر دیتا۔ بیرونِ ملک مقیم پردیسی ہفتوں پہلے پیغامات بھیجتے کہ وہ خاص طور پر بسنت کے لیے واپس آ رہے ہیں، اور گھر والوں کو تاکید کرتے کہ عزیزوں اور قریبی دوستوں کی شادیاں انہی دنوں میں طے کی جائیں تاکہ شادی اور بسنت ایک ساتھ منائی جا سکیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والے رشتہ داروں اور دوستوں کو ایک خاص ذمہ داری سونپی جاتی—نڑّا (دھاگہ) لانا، جسے زیادہ مضبوط اور قابلِ اعتماد سمجھا جاتا تھا۔ لاہور، قصور اور گرد و نواح کے شہروں میں ڈور لگانے (رنگنے) کے اڈے دن رات آباد رہتے۔ آرڈر پہلے ہی دے دیے جاتے، رنگ سوچ سمجھ کر منتخب کیے جاتے، اور جب ڈور تیار ہو جاتی تو پتنگوں کی دکانوں پر شوقین گاہکوں کی قطاریں لگ جاتیں۔ روایت یہ تھی کہ ساتھ کسی منجھے ہوئے استاد کو ضرور لے جایا جاتا، جو ایک نظر میں پتنگ کا توازن اور پھرکی کی نرمی جانچ لیتا۔ پہلے سے خریدی گئی پتنگیں اور گڈیاں نہایت احترام سے سنبھالی جاتیں، درست کی جاتیں، آزمائی جاتیں اور پھر احتیاط سے رکھ دی جاتیں۔
بسنت سے پہلے کے دنوں میں لاہور کی اپنی ہی چال بدل جاتی تھی۔ چھتیں صاف کی جاتیں، منڈیر یں درست ہوتیں اور سیڑھیاں تیار رکھی جاتیں۔ راتوں کو مدھم بلبوں کی روشنی میں پتنگوں اور گڈیوں میں تناویں ڈالی جاتیں ، سردی سے ہاتھ سن ہو جاتے مگر دل میں جوش کی حرارت کم نہ ہوتی۔ بسنت کی رات نیند ایک نایاب شے بن جاتی۔ سحر ہوتے ہی “بو کاٹا!” کی پہلی فاتحانہ صدا فضا کو چیر دیتی، اور پھر یہ آواز محلے در محلے پھیل جاتی۔ سورج بلند ہوتا تو آسمان رنگوں کے ہجوم سے بھر جاتا، بے شمار پتنگیں جیسے جیتی جاگتی مخلوق ہوں، ہوا کے ہر جھونکے پر رقصاں نظر آتیں۔ خواتین پیلے لباس زیب تن کرتیں، چوڑیاں چھنکتی، ہلدی رنگ دوپٹے چھتوں سے لہراتے، اور روایتی گیتوں کے ساتھ شوخ جملے ایک گھر سے دوسرے گھر تک پہنچتے۔
دوپہر ہوتے ہی خاص پکوان بسنت کی پہچان بن جاتے۔ بہت سے گھروں میں قیمے والی روٹیاں یا تندور سے قیمے والے نان بنتے ، کہیں گاجر کا حلوہ یا گجریلا دھیمی آنچ پر پک رہا ہوتا، اور ساتھ طرح طرح کی مٹھائیاں اور نمکین چیزیں ہمسایوں اور مہمانوں میں فراخ دلی سے بانٹی جاتیں۔ دوستانہ رقابتیں کبھی کبھار معمولی تکرار میں بدل جاتیں، مگر بزرگ چند سخت مگر شفیق جملوں سے فوراً معاملہ سنبھال لیتے اور فضا پھر خوشگوار ہو جاتی۔ آخرکار بسنت مل بیٹھنے کا تہوار تھا۔کبھی کبھار جلد بازی میں نوجوانوں اور بچوں کے چھتوں سے گرنے یا پتنگ لوٹتے ہو ئے چوٹ لگنے کے واقعات بھی رونما ہوتے۔ تجربہ کار پتنگ باز نئے شوقینوں کو پیچ لگانے کے طور طریقے بھی بتاتے ہوئے نطر آتے۔ اگر پتنگ کٹ جاتی تو پتنگ باز کی اچھی خاصی درگت بنائی جاتی اور وہ شرم کے مارے کونے میں لگ کر بیٹھ جاتا۔ دوسری صورت میں وہ پتنگ کاٹنے پر اپنے آپ کو تیس مار خان سمجھتا۔ شام ڈھلنے پر جشن ماند نہیں پڑتا بلکہ اور بھی شدت اختیار کر لیتا۔ دن کے اختتام پر شامِ کلیان کے نام سے بڑی پتنگوں کا دور شروع ہوتا، جو آنکھوں کے لیے ایک بے مثال نظارہ ہوتا تھا۔
رات ہوتے ہی چھتیں اور میدان فلڈ لائٹس سے جگمگا اٹھتے، اور سیاہ آسمان ایک روشن اسٹیج میں بدل جاتا۔ شبِ بسنت کا اپنا ہی سحر تھا۔ تیز روشنی میں دیوہیکل پتنگیں فضا میں بلند کی جاتیں، ان کے سائے روشن بادلوں پر وقار کے ساتھ تیرتے، اور خاص طور پر تیار کی گئی گڈیاں سنسنی خیز مقابلوں میں آزمائی جاتیں، جن پر چاروں طرف سے داد کی صدائیں بلند ہوتیں۔ فلڈ لائٹس کی چمک، جنریٹروں کی گونج اور قہقہوں کی بازگشت لاہور کو ایسی جشن آمیز رونق بخشتی جو دن کی روشنی میں بھی نصیب نہ ہوتی۔
ان دنوں بسنت زیادہ تر نچلے متوسط اور متوسط طبقے کا تہوار تھی، جسے دکھاوے کے بجائے خلوص سے منایا جاتا تھا۔ اشرافیہ کے بہت سے بچے پتنگ بازی کو معیوب سمجھتے یا چوٹ لگنے یا چیرا لگنے کے خوف سے اس سے دور رہتے، یوں وہ محض تماشائی بن کر رہ جاتے۔ اس تہوار کی صورت تب بدلنے لگی جب اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی۔ لاہور میں بسنت کو سرکاری اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کا بڑا سہرا اُس وقت کے کمشنر لاہور، کامران لاشاری کے سر جاتا ہے۔ نجی شعبے کے تعاون سے اس تہوار کو نئی شکل دی گئی، اس کی تشہیر کی گئی اور اسے عالمی منظرنامے پر پیش کیا گیا۔ اگرچہ اس شناخت نے بسنت کی شہرت میں اضافہ کیا، مگر اس کی روح بھی بدلتی چلی گئی، اور یہ ان لوگوں کی دسترس سے باہر ہوتی گئی جو کبھی اس کے اصل وارث تھے۔
اس تہوار میں سانحات نے اس وقت جنم لیا جب روایتی ڈور کی جگہ کیمیکل ڈور نے لے لی۔ جو آسمان کبھی مسرت کی علامت تھا، وہ سوگ کی جگہ بن گیا؛ جانیں ضائع ہوئیں، گھر اُجڑ گئے۔ رفتہ رفتہ یہ تہوار خاموشی میں ڈوبتا چلا گیا۔ آج پنجاب حکومت ایک بار پھر سرکاری نگرانی میں بسنت کی بحالی کی کوشش کر رہی ہے، کیمیکل ڈور اور خطرناک طور طریقوں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ مگر یہ پابندیاں کس حد تک مؤثر ہوں گی، اس پر ابھی سوالیہ نشان قائم ہے۔ خدانخواستہ اگر اس جشن پر دوبارہ خون کے دھبے لگے تو نہ صرف قیمتی جانیں ضائع ہوں گی بلکہ بسنت کے وجود کو بھی سنگین خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
کامران لاشاری آج بھی ہم میں موجود ہیں جو بچپن سے اس تہوار سے جڑے ہوئے ہیں، اور امید ہے کہ ماضی کے تلخ اسباق کو مثبت اور تفریح بخش رنگ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے کیونکہ مزنگ کی چھتوں اور چوباروں سے لیکر فائیو سٹار ہوٹلوں اور قدیم حویلیوں کی چھتوں تک بسنت کو پہنچانے اور منانے میں تمام تر تجربات سے واقف ہیں۔
میں آج بھی اُن دنوں کو شدت سے یاد کرتا ہوں۔ شاید میری یہ بھولی بسری یادیں دوسروں کے دلوں میں بھی سوئی ہوئی یادوں کو جگا دیں، اور یوں اُن پیارے چہروں کا خیال تازہ ہو جائے جو کبھی ہمارے ساتھ چھتوں پر کھڑے، اسی آسمان کی طرف دیکھتے اور بسنت کی سادہ مگر درخشاں خوشی میں ہمارے دلوں سے جڑے ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: بیتے ہوئے دنTable of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=9486
مزید پڑھیں: بیتے ہوئے دنhttps://timelinenews.co.pk/u-s-president-announces-military-operation/
