آبی جارحیت اور جنوبی ایشیا کا مستقبل تحریر : محمد محسن اقبال

برصغیر کا المیہ اگست 1947ء میں یونین جیک کے اترنے کے ساتھ ختم نہیں ہوا؛ وہ تو محض ایک نئے اور پُرآشوب دور میں داخل ہوا۔ پاکستان کے نقشۂ عالم پر نمودار ہوتے ہی اس کے مشرقی افق پر بداعتمادی اور مخاصمت کے بادل منڈلانے لگے۔ پہلا امتحان فوراً ہی 1947–48ء کی کشمیر جنگ کی صورت میں سامنے آیا، جب ریاست جموں و کشمیر پر افواج آمنے سامنے آئیں اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک جا پہنچا۔ جنگ بندی کی لکیر، جو بعد میں لائن آف کنٹرول کہلائی، دشمنی کو ختم نہ کر سکی بلکہ اسے ایک مستقل صورت دے گئی۔
1965 ء میں ایک بار پھر مکمل جنگ بھڑک اٹھی۔ پنجاب کے میدان اور کشمیر کی وادیاں شدید معرکوں کی گواہ بنیں، یہاں تک کہ تاشقند اعلامیے کے تحت توپیں خاموش ہوئیں۔ مگر یہ خاموشی عارضی ثابت ہوئی۔ 1971ء میں اُس وقت کے مشرقی پاکستان میں سیاسی بحران کے دوران دوبارہ جنگ چھڑ گئی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کا قیام پاکستان کی تاریخ کا نہایت دردناک باب ہے۔ داخلی سیاسی غلطیوں، کمزور فیصلوں اور قیادت کی ناکامیوں کا کردار اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ بھارت نے مکتی باہنی کی حمایت میں فوجی مداخلت کی، جس نے داخلی بحران کو بین الاقوامی جنگ میں بدل دیا۔ یوں پاکستان دولخت ہوا اور قومی حافظے میں ایک ایسا زخم ثبت ہوا جو آج تک پوری طرح مندمل نہیں ہو سکا۔
اس کے بعد کی دہائیاں بھی سکون نہ لا سکیں۔ 1984ء میں سیاچن کا محاذ دنیا کے بلند ترین میدانِ جنگ کے طور پر کھلا۔ 1999ء کا کارگل واقعہ ایک بار پھر کھلی محاذ آرائی کا سبب بنا اور دونوں ایٹمی طاقتوں کو جنگ کے دہانے تک لے آیا۔ اکیسویں صدی میں بھی لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں اور 2019ء کا پلوامہ-بالاکوٹ بحران اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے رہے کہ کشیدگی بدستور موجود ہے۔
جب روایتی جنگ کے ذریعے پاکستان کو زیر کرنے کی کوششیں بارآور نہ ہوئیں تو خفیہ عدم استحکام کے الزامات کا سلسلہ تیز ہوا۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی۔ 2016ء میں کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کو پاکستان نے جاسوسی اور تخریب کاری میں بھارتی مداخلت کا ثبوت قرار دیا۔ یہ تمام واقعات ایک وسیع تر حکمتِ عملی کی جھلک پیش کرتے ہیں جس کا مقصد پاکستان کو مسلسل دباؤ میں رکھنا ہے۔
اسی تسلسل میں پانی کا معاملہ ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن عنصر بن کر سامنے آتا ہے۔ دریائے سندھ کا طاس پاکستان کی زراعت، صنعت اور توانائی کا بنیادی ستون ہے۔ ملک کی اکثریتی آبادی کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ انہی دریاؤں سے وابستہ ہے۔ اسی نزاکت کے پیش نظر 1960ء میں عالمی بینک کی ثالثی سے سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی دریا—راوی، بیاس اور ستلج—بھارت کو اور مغربی دریا—سندھ، جہلم اور چناب—زیادہ تر پاکستان کو مختص کیے گئے۔ کئی دہائیوں تک یہ معاہدہ اس امر کی علامت سمجھا جاتا رہا کہ شدید دشمنی کے باوجود بھی کچھ شعبے تعاون کے دائرے میں رہ سکتے ہیں۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ مغربی دریاؤں پر بھارتی پن بجلی منصوبوں نے شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ بگلیہار، کشن گنگا اور دیگر منصوبوں کے ڈیزائن، پانی کے ذخیرے کی گنجائش، اور اس کے اخراج کے طریقہ کار پر پاکستان نے بارہا اعتراضات اٹھائے۔ تکنیکی سطح پر یہ اختلافات چاہے انجینئرنگ کی نوعیت کے ہوں، لیکن ان کے پس منظر میں سیاسی عدم اعتماد کارفرما رہا ہے۔ پانی کے بہاؤ میں وقتی رکاوٹ یا اس کے شیڈول میں تبدیلی بھی زرعی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، خصوصاً بوائی اور کٹائی کے حساس اوقات میں۔
دریائے راوی پر شاہ پور کنڈی ڈیم کی تکمیل اور اس کا عملی آغاز اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اگرچہ معاہدے کے تحت اس دریا کا اختیار بھارت کے پاس ہے، لیکن اس کے مکمل استعمال سے سرحد پار پاکستان میں پہلے سے محدود بہاؤ مزید کم ہو سکتا ہے۔ سرحدی علاقوں میں کسان جو باقی ماندہ پانی پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے صورتحال مزید دشوار ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر مستقبل میں مغربی دریاؤں پر مزید بڑے ذخائر یا رن آف ریور منصوبے تعمیر کیے جاتے ہیں تو پاکستان کے لیے یہ اندیشہ برقرار رہے گا کہ کسی بھی کشیدہ صورتحال میں پانی کے بہاؤ کو وقتی طور پر روکا یا کم کیا جا سکتا ہے۔
پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے نتائج صرف زرعی کمی تک محدود نہیں رہتے۔ اگر دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہو تو گندم، چاول، کپاس اور گنے جیسی بنیادی فصلیں متاثر ہوں گی، جس سے غذائی تحفظ خطرے میں پڑے گا۔ زرعی پیداوار میں کمی براہِ راست برآمدات کو متاثر کرے گی، زرمبادلہ کی آمد گھٹے گی اور معاشی دباؤ بڑھے گا۔ پن بجلی کے منصوبے، جو پہلے ہی پانی کی کمی کے باعث مکمل استعداد سے کام نہیں کر پاتے، مزید متاثر ہوں گے، نتیجتاً توانائی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ صنعتی پہیہ سست پڑے گا اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گا۔
ماحولیاتی اعتبار سے بھی نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ دریائے سندھ کا ڈیلٹا پہلے ہی سمندری پانی کی دراندازی، مینگرووز کے خاتمے اور زمین کی سیم و تھور کا شکار ہے۔ اگر دریا کا میٹھا پانی مزید کم ہوا تو سمندر کی پیش قدمی تیز ہو گی، زرعی زمینیں ناقابلِ کاشت بنتی جائیں گی اور ماہی گیری کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ یہ سب عوامل سماجی بے چینی، نقل مکانی اور اندرونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔
پاکستان پہلے ہی پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت فی کس پانی کی دستیابی جو ہزاروں مکعب میٹر تھی، آج خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ آبادی میں بے تحاشا اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا غیر متوقع پگھلاؤ اور پانی ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ اگر بیرونی دباؤ بھی اس میں شامل ہو جائے تو صورتحال ایک ہمہ جہت چیلنج میں بدل سکتی ہے۔
تاہم اس تصویر کا ایک پہلو داخلی اصلاحات سے بھی متعلق ہے۔ پانی کے ضیاع، پرانی نہری نظام کی خرابی، غیر مؤثر آبپاشی طریقوں اور ذخیرہ گاہوں کی کمی نے ہمیں کمزور کیا ہے۔ اگر ہم قومی سطح پر بڑے آبی ذخائر تعمیر کریں، جدید آبپاشی نظام اپنائیں، بارش کے پانی کو محفوظ کریں اور پانی کے استعمال میں نظم و ضبط پیدا کریں تو بیرونی دباؤ کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ سفارتی محاذ پر بھی فعال، مدلل اور مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں تاکہ بین الاقوامی معاہدوں کی روح اور الفاظ دونوں کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔
1947 ء سے لے کر آج تک کی داستان یہی بتاتی ہے کہ رقابت نے اپنی شکلیں بدلی ہیں مگر اس کی شدت میں کمی نہیں آئی۔ اب اگر پانی کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف دو ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ دریا فطرت کی مشترکہ میراث ہیں۔ انہیں تصادم کا ذریعہ بنانے کے بجائے تعاون کا وسیلہ بنانا ہی دانشمندی ہے۔
پاکستان کی بقا اور خوشحالی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی داخلی کمزوریوں کا ازالہ کرے۔ ماضی نے ہمیں آزمائشوں میں ثابت قدمی سکھائی ہے؛ مستقبل ہم سے حکمت، اتحاد اور دوراندیشی کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ہم نے بروقت تدبر اختیار نہ کیا تو پانی، جو زندگی کی علامت ہے، کشمکش کا استعارہ بن سکتا ہے۔ اور اگر ہم نے بصیرت سے کام لیا تو یہی پانی قومی استحکام اور خود انحصاری کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
Table of Contents
https://dailytimeline.pk/?p=9973
